Al-Risala · October 1987 · page 6

داخلی احتساب

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۷، صفحہ ۶

داخلی احتساب

لُعِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ بَنِيْ اِسرَائِيلَ عَلَى بَنِی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ان پر لِسَانِ دَاوُدَ وَعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ ط ذَلِكَ بِمَا لعنت کی گئی، داؤد اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے۔ عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ۔ کَانُوا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ اس لیے کہ انھوں نے نافرمانی کی اور وہ حد سے آگے مُنْكَرٍ فَعَلُوْهُ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ بڑھ جاتے تھے۔ وہ ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے (المائدہ ۷۹-۷۸) تھے اس برائی سے جو وہ کرتے تھے۔ نہایت برا کام تھا جو وہ کر رہے تھے۔

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے خارجی احتساب کو زندگی کی علامت سمجھ لیا ہے۔ مگر مذکورہ آیت اس کے برعکس یہ اعلان کر رہی ہے کہ داخلی احتساب مسلمانوں کی ایمانی زندگی کی علامت ہے۔ مسلم معاشرہ کے اندر برائی کو برداشت نہ کرنا اور آپس میں ایک دوسرے کو غلط کام سے روکنا اسلام اور ایمان کی لازمی شرط ہے۔ اہل ایمان کے معاشرے میں اگر یہ صفت باقی نہ رہے تو ایسے لوگ اللہ کی نظر میں لعنت زدہ قرار پائیں گے، جیسا کہ یہود کے ساتھ ہوا۔ دوسروں کے خلاف احتجاج اور احتساب کی کوئی بھی مقدار اس کا بدل نہیں بن سکتی۔

حدیث کی کتابوں میں کثرت سے ایسی روایتیں موجود ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو بنی اسرائیل (یہود) کی مذکورہ روش سے ڈرایا ہے اور متنبہ کیا ہے کہ اگر تم نے ایسا کیا تو تم بھی خدا کی نظر میں اسی طرح ملعون ہو جاؤ گے جس طرح یہود خدا کی نظر میں ملعون قرار پائے۔ یہاں ہم چند حدیثیں نقل کرتے ہیں :

عن عبد الله بن مسعود قال ؛ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ان الرجل من بني إسرائيل كان اذا رأى اخاة على الذنب نهاه عنه تعذيرا فاذا كان من الغد لم يمنعه ما رأى منه ان يكون اكيله وشاركه وشريکه فلما رأي الله ذالك منهم ضرب بقلوب بعضهم على بعض وقلبهم لعنة على لسان

‹ Previous page Next page › Contents of October 1987 All issues

Printed page