داخلی احتساب
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۷، صفحہ ۸
اللہ خاص و عام سب کو عذاب میں مبتلا کر دیتا ہے ۔
مذکورہ آیت اور مذکورہ احادیث میں جو بات کہی گئی ہے وہ بے حداہم ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے بارہ میں بھی خدا کا عین وہی قانون ہے جو اس سے پہلے یہود کے بارے میں تھا۔ اس اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں ۔
اس حقیقت کو سامنے رکھ کر غور کیجئے تو موجودہ فسادات وہی خدائی حکم نظر آنے لگتے ہیں جن کی پیشگی خبر حدیث میں دیدی گئی تھی ۔ اندیشہ یہ ہوتا ہے کہ یہ خدا کی طرف سے لعنت کی کوئی صورت نہ ہو ۔ لعنت کے معنی ہیں خیر سے بعید کر دینا ۔ موجودہ مسلمان شاید خدا کی رحمت سے دور کر دیئے گئے ہیں ۔ وہ ہر صبح و شام اپنے دشمنوں کی بربادی کی دعائیں کرتے ہیں مگر ان کی دعا قبول نہیں ہوتی ۔ ان کے کچھ شر انگیز عنصر فساد کرتے ہیں اور اس کے بعد پوری قوم کو اس کی بدترین سزا بھگتنی پڑتی ہے ۔ یہ تمام علامتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ موجودہ مسلمانوں پر شاید وہ کچھ نازل ہو چکا ہے جس کے نازل ہونے کا اندیشہ ان کے پیغمبر نے ظاہر کیا تھا ۔
موجودہ حالت یہ ہے کہ مسلمانوں میں بے قیدی اور بے راہ روی عام ہو گئی ہے ۔ وہ بات بات پر لڑنے کے لیے تیار رہتے ہیں ۔ چنانچہ تمام فرقہ وارانہ فسادات خود مسلمانوں کے بعض عناصر کی شر انگیز کارروائیوں سے شروع ہوتے ہیں ۔ پھر جب فساد بڑھتا ہے تو پوری قوم کو اس کی سزا بھگتنی پڑتی ہے ۔ یہ صورت حال بار بار پیش آ رہی ہے اور تمام مسلمان اس کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔ مگر مسلمانوں میں کوئی بھی قابل ذکر گروہ نہیں جو اپنے ان مجرموں کو کنڈم کرے اور ان کا ہاتھ پکڑنے کے لیے کھڑا ہو ۔
مسلمانوں میں ایسے قائدین تو بہت ہیں جو حکومت یا غیر مسلم فرقہ کے خلاف تقریر اور بیانات کی دھوم مچانے کے لیے بے قرار رہتے ہیں ۔ حتیٰ کہ ان میں ایسے مجاہدین بھی ہیں جو زمانہ کی کلائی موڑنے اور ساری کائنات کا احتساب کرنے کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں ۔ مگر ان کے درمیان کوئی بھی ایسا قائد نہیں جو مسلمانوں کے اوپر محتسب بن کر کھڑا ہو ۔ جو ان مسلمانوں کے خلاف دھوم مچائے جو برادران وطن کے ساتھ اشتعال انگیز کارروائیاں کرتے ہیں اور ان کی انا کو بھڑکاکر پوری قوم کو آگ اور خون میں نہلانے کا سبب بن جاتے ہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1987 All issues