Al-Risala · October 1987 · page 7

داخلی احتساب

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۷، صفحہ ۷

لعنهم ۔

عن حذيفة بن اليمان ان النبي صلى الله عليه وسلم قال والذى نفسى بيده لتامرن بالمعروف ولتنهون عن المنكر اوليوشكن الله ان يبعث عليكم عقا با من عنده ثم لتدعنه فلا يستجيب لكم ۔

عن عدى بن عميرة رضى الله عنه قال سمعت النبی صلی الله عليه وسلم يقول انّ اللہ لا يعذب العامة بعمل الخاصة حتى يروا المنكر بين ظهرانيهم وهم قادرون على ان ينكروه فلا ينكرونه فاذا فعلوا ذالك عذب الله الخاصة والعامة ۔ (تفسیر ابن کثیر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل کا یہ حال تھا کہ ان کا ایک آدمی جب اپنے بھائی کو برائی کرتے ہوئے دیکھتا تو وہ پہلی بار اس کو منع کرتا۔ مگر جب اگلا دن آتا تو جو کچھ اس نے دیکھا تھا وہ اُس کو اِس سے نہ روکتا کہ وہ اس کے ساتھ کھائے اور اس کے ساتھ اٹھے بیٹھے۔ پس جب اللہ نے ان کے اندر یہ بات دیکھی تو ان کے دلوں کو ایک دوسرے میں خلط ملط کر دیا۔ اور اپنے پیغمبر داؤد اور عیسی ابن مریم کی زبان سے ان پر لعنت کی، ایسا اس لیے ہوا کہ انھوں نے نافرمانی کی اور وہ حد سے گزر جانے والے لوگ تھے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم کو ضرور ایسا کرنا ہوگا کہ تم (اپنے لوگوں کو) اچھائی کا حکم دو اور ان کو برائی سے روکو اور غلط کار کا ہاتھ پکڑ لو اور اس کو حق کی طرف موڑ دو۔ ورنہ اللہ تمہارے دلوں کو ایک دوسرے سے خلط ملط کر دے گا یا تم پر لعنت کرے گا جس طرح اس نے یہود پر لعنت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، تم ضرور (اپنے لوگوں کو) اچھائی کا حکم دوگے اور ضرور برائی سے روکوگے۔ ورنہ قریب ہے کہ اللہ تمہارے اوپر اپنے پاس سے عذاب بھیج دے۔ پھر تم اللہ کو پکارو مگر وہ تمہاری پکار کو نہ سنے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ بعض لوگوں کے عمل کی سزا عام لوگوں کو نہیں دیتا یہاں تک کہ ان کا یہ حال ہو جائے کہ وہ برائی کو اپنے (لوگوں کے) درمیان دیکھیں اور وہ اس کا انکار کرنے پر قادر ہوں پھر بھی وہ اس کا انکار نہ کریں۔ پس جب وہ ایسا کرتے ہیں تو

‹ Previous page Next page › Contents of October 1987 All issues

Printed page