مایوسی کا شکار
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۷، صفحہ ۱۴
وہ باہر کے کام کے قابل نہیں رہتی۔ اس مشکل کے حل کے لیے قانون بنایا گیا کہ عورت کو حمل اور رضاعت کے دوران خصوصی چھٹی دی جائے۔ مگر اس قسم کا لفظی کھیل صرف وہ لوگ کر سکتے ہیں جو قانون ساز مجالس میں بیٹھ کر قانون بناتے ہیں۔ اس اصول کا تحمل وہ لوگ نہیں کر سکتے جن کو عملاً ایک کارخانہ چلانا ہے یا ایک دفتر کا انتظام کرنا ہے۔ چنانچہ اب مالکوں اور خاتون ملازموں کے درمیان لامتناہی جھگڑے چھڑ گئے ہیں ۔
حکومتی ادارہ اب تک اس نزاع میں بظاہر خواتین کا ساتھ دے رہا ہے تاکہ اس کے تہذیبی اصول کی عظمت باقی رہے۔ مگر حقیقت کے خلاف یہ جانب داری قابل عمل نہیں۔ حکومت اگر دفتروں اور کارخانوں سے کہے کہ وہ خاتون کارکنوں کو " چار ماہ " کی با تنخواہ چھٹی دیں تو کون ادارہ اس تہذیبی تعیش کو برداشت کر سکتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اداروں میں یہ رجحان بڑھے گا کہ جوان عورتوں کو ملازمت میں نہ لیا جائے اور جب عورتیں بوڑھی ہو چکی ہوں گی تو وہ اپنے آپ ملازمتوں میں جانے سے رک جائیں گی۔ اس طرح مغربی سوسائٹی میں وہی چیز شدید نصرورت میں پیدا ہو جائے گی جس کو ختم کرنے کے لیے آزادی نسواں کی تحریک چلائی گئی تھی۔ یعنی صنفی امتیاز۔
مایوسی کا شکار
۱۲-۱۶ جنوری ۱۹۸۷ کو نئی دہلی (ویگیان بھون) میں ایک کانفرنس ہوئی۔ اس میں پندرہ ملکوں کے فلسفی، سائنٹسٹ، مصنف اور آرٹسٹ شریک ہوئے۔ اس پانچ روزہ کانفرنس کا عنوان تھا: نئے آغاز کی طرف (Towards New Beginning) اس کانفرنس کا اہتمام مرکزی حکومت ہند نے کیا تھا ۔
اس عالمی کانفرنس میں مغربی دنیا کی کئی ممتاز خواتین بھی شریک ہوئیں جو اب بڑھاپے کی عمر میں ہیں اور انھوں نے اپنی پوری زندگی آزادی نسواں کی تحریک چلانے میں گزاری ہے۔ مگر اب وہ مایوسی کا شکار ہیں۔ آسٹریلیا کی جرمین گریر جو بین اقوامی شہرت کی مالک ہیں، ان کے بارہ میں انڈین ایکسپریس (۱۴ جنوری ۱۹۸۷) کے نامہ نگار کے الفاظ یہ ہیں کہ آج کل وہ بہت دھیمی نظر آتی ہیں۔ ان کا وہ جوش جو فیمیل یونیک نامی کتاب لکھنے کے وقت ان کے اندر ہوتا وہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 1987 All issues