Al-Risala · October 1987 · page 13

That almost always backfires.

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۷، صفحہ ۱۳

نے کہا کہ عورت اور مرد کے درمیان برابری کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عورتیں مردوں کے نمونہ پر پوری اتریں : Equality does not mean women have to fit the male model. یہ دلیل بھی کیسی عجیب ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب عورتیں اپنی فطری ساخت کے اعتبار سے اتنی مختلف ہیں کہ وہ مردوں کے "ماڈل" کے مطابق نہیں بن سکتیں تو اس عجیب و غریب صنفی برابری کی کیا ضرورت ہے کہ عورتوں کو مردوں کی طرح ہر جگہ کام کے لیے کھڑا کر دیا جائے ۔ اور پھر جبری قوانین کے ذریعہ اس مصنوعی برابری کو قائم رکھا جائے ۔

اسی طرح سلویا این ہیولٹ (Sylvia Ann Hewlett) نے کہا کہ امریکہ کی عدالت عالیہ کے اس فیصلہ کا مطلب یہ ہے کہ اعلیٰ ترین قانونی سطح پر اس حقیقت کا اعتراف کر لیا گیا کہ عورتوں کو دفاتر میں برابری کا مقام دلانے کے لیے ایک خاندانی سپورٹ کو وجود میں لانا ہو گا : This decision means that there is recognition at the highest legal levels that in order to get equal results for women in the workplace, you have to create family supporters (p. 21). یہ قدیم روایتی نظام کی معقولیت کا بالواسطہ اعتراف ہے۔ جدید تہذیب نے یہ معیار پیش کیا تھا کہ مرد کو عورت کا سپورٹر نہ ہونا چاہیے ۔ بلکہ عورت خود کمائے اور خود اپنی سپورٹر بنے ۔ مگر جب اس اصول کو عمل میں لایا گیا تو معلوم ہوا کہ عورت سپورٹر کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے اس سپورٹر کا نام "شوہر" تھا اور اب اس سپورٹر کا نام "کمپنی" ہے ۔ قدیم روایتی ماحول جو مذہب کے زیر اثر بنا تھا ، اس میں مرد بنیادی طور پر باہر کا کام کرتے تھے اور عورتیں بنیادی طور پر گھر کا کام ۔ یہ دراصل ایک طرح کی تقسیم کار تھی ۔ مگر جدید تہذیب نے اس کے متعلق کہا کہ یہ ایک صنف اور دوسری صنف کے درمیان امتیاز ہے۔ چنانچہ زور و شور کے ساتھ آزادی نسواں کی تحریک چلی ۔ عورتوں کو گھروں سے نکال کر دفتروں اور کارخانوں میں ڈال دیا گیا ۔

مگر بہت جلد معلوم ہوا کہ اس نئے انتظام میں مختلف قسم کی رکاوٹیں حائل ہیں۔ مثال کے طور پر عورت کا معاملہ یہ ہے کہ وہ حاملہ ہوتی ہے ۔ وہ بچہ پیدا کرتی ہے اور پھر ایک مدت تک

‹ Previous page Next page › Contents of October 1987 All issues

Printed page