درد ناک انجام
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۷، صفحہ ۱۸
میں ۹۶ لڑکیاں حاملہ پائی گئی ہیں۔ (صفحہ ۶)
یہ انجام ہے فطرت سے انحراف کرنے کا ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مرد اور عورت کی شکل میں بنایا۔ پھر مرد اور عورت کے تعلق کا ایک نظام مقرر کیا ۔ وہ نظام یہ ہے کہ مرد اور عورت ایک خاص عمر کو پہونچ کر نکاح کرلیں ۔ پھر وہ مل کر ایک گھر بنائیں۔ اپنے بچوں کی تربیت اور پرورش کریں۔ اس طرح انسانی نسل چلائی جائے ۔ مگر جدید مغرب نے آزادی کے تصور کو اتنا بڑھا یا کہ عورت اور مرد کے باہمی تعلق کو بھی ہر قسم کی پابندیوں سے آزاد کر دیا ۔ اس کے نتیجہ میں مغرب کے معاشرہ میں بے شمار خرابیاں پیدا ہو گئیں جن میں سے ایک وہ ہے جس کی ایک مثال اوپر کے واقعہ میں نظر آتی ہے۔ عورت اور مرد کے درمیان آزادانہ اختلاط اور بے قید تعلق فطرت کے سراسر خلاف ہے ۔ صنفی معاملہ میں عورت " وحدت " کو پسند کرتی ہے ۔ جب کہ مرد کا معاملہ طبعاً کسی قدر مختلف ہے ۔ نتیجہ یہ ہے کہ آزادانہ صنفی تعلق وفا دارانہ صنفی تعلق میں مانع بن جاتا ہے جو مرد سے زیادہ عورت کے لیے نفسیاتی ہلاکت کے ہم معنی ہے۔ اس کی سب سے زیادہ قیمت عورت کو بھگتنی پڑتی ہے ۔ آسٹریلیا کی مشہور آزادی پسند خاتون مسزِجر مین گریر (Ms Germaine Greer) نے بڑی عمر کو پہونچ کر یہ اعتراف کیا ہے کہ نوجوانی کی عمر میں آزادی نسواں کے لیے ان کا جوش و خروش حقیقت پسندانہ نہ تھا۔ انھوں نے ایک انٹرویو (انڈین ایکسپریس ۴ جنوری ۱۹۸۷) میں کہا : What is worrying today is the results of the sexual liberation movement —the number of teenaged girls who have been on the pill since they were 12 and 13, the number of teenaged girls who get pregnant by the time they are 15 and 16. What is happening to them? Sex means something quite different for men. They can love and leave. When the time comes to go to university, they can take off quite easily. Women have a different sensibility. They love with their heads, hearts and loins. And a broken love affair leaves them quite shattered. I have seen it happen to people close to me. And it is terrible. آج جو چیز پریشان کن ہے وہ آزاد صنفی تحریک کے نتائج ہیں۔ کم عمر لڑکیاں جو ۱۲ اور ۱۳ سال کی عمر سے مانع حمل گولیوں پر رہنے لگتی ہیں اور وہ لڑکیاں جو ۱۵ اور ۱۶ سال کی عمر میں حاملہ ہو جاتی ہیں، ان کے ساتھ کیا بیت رہی ہے۔ صنفی تعلق مرد کے لیے کافی مختلف معنی رکھتا ہے ۔ وہ ایسا کر سکتے ہیں کہ محبت کریں اور چھوڑ دیں۔ جب یونیورسٹی جانے کا وقت آتا ہے تو وہ نہایت آسانی
‹ Previous page Next page › Contents of October 1987 All issues