Al-Risala · October 1987 · page 19

درد ناک انجام

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۷، صفحہ ۱۹

سے روانہ ہوسکتے ہیں ۔ عورتیں مرد سے مختلف حساسیت رکھتی ہیں ۔ وہ اپنے دماغ ، اپنے دل اور اپنے وجود کے ساتھ محبت کرتی ہیں ۔ ایک ٹوٹا ہوا محبت کا رشتہ انھیں بالکل توڑ کر رکھ دیتا ہے، میں نے یہ بات اپنے قریب کے لوگوں میں ہوتے ہوئے دیکھی ہے ۔ اور یہ دہشتناک ہے ۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی سوسائٹی میں بھی بگاڑ پایا جاتا ہے اور مغرب کی سوسائٹی میں بھی ۔ مگر دونوں میں ایک فرق ہے ۔ مسلمانوں کا بگاڑ اسلامی اصولوں پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے ۔ جب کہ مغربی سماج کا بگاڑ خود ان کے اصولوں پر عمل کی پیداوار ہے ۔ مصنوعی مسائل کیلی فورنیا کے ایک کروڑ پتی رابرٹ گراہم (Dr Robert Graham) نے ایک انوکھا بینک قائم کیا۔ اس کا نام انھوں نے نوبیل اسپرم بینک (Nobel Spermbank) رکھا۔ اس "بینک" میں نوبیل انعام یافتہ افراد کے مادہ منویہ کو حاصل کر کے محفوظ کیا جاتا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے عورتوں کو بار آور کیا جائے اور زیادہ اعلیٰ ذہانت (Above-average intelligence) والے بچے پیدا کیے جائیں ۔ بانی کا کہنا تھا کہ یہ بینک اس نے نااہل شوہروں (Infertile husbands) کے لیے قائم کیا ہے۔ تاہم جدید خواتین کی اباحیت پسندی اس پابندی کو ختم کر رہی ہے ۔ بہت سی خواتین نکاح کے بغیر بچہ پیدا کرنا چاہتی ہیں ، نیز وہ چاہتی ہیں کہ ان کی اولاد اعلیٰ استعداد کی مالک ہو، ایسی خواتین آزادانہ طور پر اس بینک کی خدمات حاصل کر رہی ہیں ۔ انھیں خوآئین میں سے ایک کیلی فورنیا کی ڈاکٹر آفتن بلیک (Afton Blake) ہے۔ اس کی عمر اس وقت ہم ہم سال ہے۔ اس نے مذکورہ نوبیل اسپرم بینک سے رابطہ قائم کیا۔ وہ اپنے لیے جس قسم کی اولا د چاہتی تھی ، اس کے مطابق اسے مشورہ دیا گیا کہ وہ نمبر ۲۸ (28 Number) کا مادہ حاصل کرے ۔ واضح ہو کہ اس بینک میں جن لوگوں کے مادہ منویہ جمع کیے گیے ہیں ان کو ان کے نام سے پکارا نہیں جاتا ۔ بلکہ ان میں سے ہر ایک کو ایک نمبر دیا گیا ہے اور اسی خاص نمبر سے اس کو یاد کیا جاتا ہے ۔

ڈاکٹر بلیک " نمبر ۲۸ " کے مادہ کو اپنے رحم میں داخل کر کے حاملہ ہوئی۔ مقررہ وقت پر اس کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا۔ اس لڑکے کا نام اس نے ڈورون (Doron) رکھا۔ یہ یونانی

‹ Previous page Next page › Contents of October 1987 All issues

Printed page