No shaves here.
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۷، صفحہ ۲۱
بیماری کی تحقیق کی گئی ہے جس کو ایڈز (AIDS) کہا جاتا ہے ۔
ایڈز کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ ایک متعدی مرض ہے۔ چنانچہ یہ مرض اب نئے قسم کے اچھوت پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے ۔ جو مرد یا عورت ایک بار ایڈز میں مبتلا ہو جائیں ، لوگ ان سے دور بھاگنے لگتے ہیں، کیوں کہ انہیں اندیشہ ہوتا ہے کہ انہیں بھی یہ مرض لگ جائے گا۔ بعض مغربی ملکوں میں بار بر شاپ پر اس قسم کے نشانات نظر آنے لگے ہیں جن کے اوپر لکھا ہوا ہوتا ہے کہ شیو کے لیے یہاں نہ آئیں :
No shaves here.
حکومتی ذمہ داروں نے اس کو ایڈز ہسٹریا کہا ہے ۔ تا ہم بار بر حضرات کا کہنا ہے کہ مریض کے چہرہ کا پسینہ یا شیو کرتے ہوئے معمولی ساخون نکل آنا بھی بیماری کے پھیلنے کا سبب بن سکتا ہے ، اس لیے احتیاطی طور پر ایسے مریضوں سے بچنا ضروری ہے ۔ (ٹائمس آف انڈیا ۱۹فروری۱۹۸۷) ٹائم کے محققین کی جماعت نے تفصیلات پیش کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ اس مہلک مرض کا سب سے بڑا سبب آزادانہ جنسی تعلق (Promiscuity) ہے ۔ اسی بنا پر اس مرض کو رندی کا مرض (Gay disease) کہا جاتا ہے ۔ یہ مرض بہت تیزی سے پھیلتا ہے ۔ چنانچہ اس نے جدید دنیا میں جیومیٹرک انتشار (Geometric explosion) کی صورت اختیار کر لی ہے ۔ ایڈز کی ہلاکت خیزی کو دیکھ کر ایک مبتلائے مرض نے کہا :
Oh, what will happen in this world if we have to die when we make love? AIDS is the century's evil (p. 32). آہ ، اس دنیا کا کیا ہو گا اگر ہمارا حال یہ ہو جائے کہ ہم کو محبت کرنے کے لیے مر جانا پڑے ۔ ایڈز اس صدی کی آفت ہے ۔
آزادانہ جنسی تعلق ، جس کو مغرب میں خوبصورت طور پر آزادانہ محبت کہا جاتا ہے ، وہ اب لوگوں کے لیے عذاب بنتا جا رہا ہے ۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ 1991 تک امریکہ میں 270,000 افراد اس مرض میں مبتلا ہو چکے ہوں گے ۔ جن کا علاج کرنا امریکی ڈاکٹروں کے قابو سے باہر ہو جائے گا ۔ چنانچہ حکومت کی طرف سے جو مخالف ایڈز مہم (Anti-AIDS campaign) چلائی
‹ Previous page Next page › Contents of October 1987 All issues