Love Carefully
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۷، صفحہ ۲۳
آزادانہ جنسی تعلق ایک عمومی رواج کی صورت اختیار کر گیا۔
لوگ خوش تھے کہ انھوں نے شریعت اور مذہب کی پابندی سے آزاد ہو کر لامحدود عیش کا راز دریافت کر لیا ہے ۔ مگر بیسویں صدی کے ربع آخر میں پہنچ کر آزادانہ جنسی تعلق نے نئے نئے امراض پیدا کر دیئے ۔ اور بالآخر " ایڈز " کی مہلک بیماری نے لوگوں کو یہ ماننے پر مجبور کر دیا کہ شریعتِ خداوندی کا طریقہ ہی فطری طریقہ ہے ۔ اس کے مقابلہ میں آزادانہ جنسی تعلق انسانی صحت کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ٹائم میگزین کے مذکورہ شمارہ (صفحہ ۴۴) میں ایک مرد اور ایک عورت کو اس حال میں دکھایا گیا ہے کہ ان کو ایک خوفناک سانپ نے چاروں طرف سے لپیٹ لیا ہے ۔
قرآن میں ہدایت کی گئی تھی کہ عورتوں کے ساتھ جنسی تعلق قیدِ نکاح میں لا کر کرو نہ کہ بدکاری کے طور پر کرنے لگو (محصنین غیر مسافحین، مائدہ ۵) مفسرین نے قرآن کی اس آیت کی تفسیر ان الفاظ میں کی ہے کہ عورتوں کے ساتھ نکاح کے ذریعہ تعلق قائم کرو نہ کہ زانی بن کر (یعنی متزوجین غیر زانين تجربات نے بتایا کہ یہی طریقہ صحیح فطری طریقہ ہے ۔ مناکحت اور مسافحت میں اتنا زیادہ فرق ہے کہ ایک اگر زندگی ہے تو دوسرا موت ۔ ایک طریقہ انسانی سماج کے لیے رحمت ہے تو دوسرا طریقہ انسانی سماج کے لیے عذاب ۔ ٹائمس آف انڈیا (۱۹ مارچ ، ۱۹۸۷) نے ایڈز روک (AIDS Check) کے عنوان کے تحت ایک امریکی رپورٹ شائع کی ہے ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کی حکومت نے اپنے شہریوں کو بعض تدبیریں اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے جس کے ذریعہ وہ ایڈز کی مہلک بیماری سے بچ سکتے ہیں ۔ ان تدبیروں میں سب سے زیادہ خاص تدبیر جنسی پرہیز ہے ؛ یہ واقعہ انسانی قانون پر خدائی شریعت کی برتری کا کھلا ہوا ثبوت ہے ۔ خدائی شریعت کو ماننے والا ایک شخص اگر خدا نخواستہ مسافحت کا طریقہ اختیار کرے اور اس کو ایڈز کی بیماری لگ جائے تو اس کو اصول شریعت سے انحراف کا نتیجہ کہا جائے گا۔ اس کے برعکس مغربی
‹ Previous page Next page › Contents of October 1987 All issues