It is a pattern of coercive control (p. 136).
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۷، صفحہ ۲۶
میں اسی طرح کمزور تھیں جس طرح ہر دور کی عورتیں کمزور رہی ہیں۔ مگر مزاج کے اعتبار سے وہ اپنے آپ کو مردوں کا ہمسر سمجھ رہی تھیں۔ مرد صنف قوی ہونے کی وجہ سے عورتوں پر اپنا کنٹرول قائم کرنا چاہتا تھا۔ مگر عورتوں نے اپنے مصنوعی مزاج کی بنا پر کنٹرول قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کش مکش کا نتیجہ یک طرفہ طور پر عورتوں کے حق میں بُرا ثابت ہوا۔ عورت اور مرد دونوں اگر واقعةً حیاتیاتی طور پر یکساں ہوتے تو کبھی مرد عورت کو مارتا اور کبھی عورت مرد کو مارتی۔ مگر چونکہ یہاں معاملہ یکسانیت کا نہ تھا، اس لیے وہی صورت پیش آئی جو خربوزے اور چھری کے ٹکراؤ میں پیش آتی ہے۔ مرد ہمیشہ مارنے والا ثابت ہوا ۔ اور عورت ہمیشہ مار کھانے والی ۔
اس معاملہ میں جدید عورت کی مظلومی اتنی زیادہ بڑھی ہوئی ہے کہ وہ بھاگ کر بھی اپنے آپ کو نہیں بچا سکتی۔ رپورٹ کے مطابق ایک عورت نے کہا کہ اگر کوئی عورت بھاگنا چاہے تو اس کا شوہر اس کو دھمکی دیتا ہے کہ میں تم کو پکڑلوں گا اور تمہیں مار ڈالوں گا۔ اکثر سنگین ضربیں اور موتیں اس وقت پیش آتی ہیں جب کہ عورتیں باہر بھاگ جانا چاہتی ہیں: If you try to leave, a husband may threaten, “I'll find you and kill you." Many of the worst injuries and deaths happen as women try to get away (p. 137). فطرت کی تقسیم میں مرد کو عورت کے اوپر قوام بنایا گیا ہے۔ اب اگر اس تقسیم کو مصنوعی طور پر بدلنے کی کوشش کی جائے تو اس کا انجام وہی ہوگا جس کی ایک تصویر مذکورہ بالا رپورٹ میں دکھائی دیتی ہے۔ جدید تہذیب سے پہلے کبھی ایسا نہ تھا کہ عورتیں اس طرح اپنے گھروں میں ماری جائیں۔ یہ صرف دورِ جدید کی خصوصیت ہے۔ اور یہ براہِ راست طور پر اس مصنوعی نظریہ مساوات کا نتیجہ ہے جو تاریخ میں پہلی بار مغربی تہذیب میں اختیار کیا گیا ۔ تاریخ کے پچھلے دور میں بھی عورت کو مارنے کے واقعات ہوتے تھے مگر وہ استثنائی طور پر صرف نچلے طبقات میں پیش آتے تھے۔ لیکن جدید حالات نے ان کو بڑھا کر اعلیٰ طبقات کے دائرہ تک پہنچا دیا۔ اس نے ایسے واقعات کو مہذب انسانوں کا مسئلہ بنا دیا جب کہ اس سے
‹ Previous page Next page › Contents of October 1987 All issues