It is a pattern of coercive control (p. 136).
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۷، صفحہ ۲۵
ملین سے زیادہ عورتوں کو ہر سال طبی امداد کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہر ایک دن میں چار عورتیں مر جاتی ہیں ۔
امریکہ کے ترقی یافتہ اور مہذب معاشرہ میں عورتوں کو مارنے کی یہ برائی کیوں ہے ۔ اس پر موجودہ زمانہ میں کافی تحقیق کی گئی ہے۔ مسز سوسن شسٹر(Susan (Susan Schechter) نے اس موضوع پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے عورتیں اور مردانہ تشدد (Women and Male Violence) ان کا جواب یہ ہے کہ یہ جابرانہ کنٹرول حاصل کرنے کی ایک صورت ہے :
It is a pattern of coercive control (p. 136).
ریڈرز ڈائجسٹ کی مذکورہ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے :
“Any batterer can tell you why he hit her,” says Ellen Pence, director of the Domestic Abuse Intervention Programme. “He wanted control over her, he wanted his own way” (p. 140.)
کوئی بھی مارنے والا مرد آپ کو بتائے گا کہ اس نے عورت کو کیوں مارا۔ ڈی اے آئی پی کے ڈاکٹر ایلن پینس نے کہا: " اس نے عورت کے اوپر کنٹرول حاصل کرنا چاہا۔ اس نے چاہا کہ اس کی اپنی مرضی چلے "
مذکورہ بیان کی روشنی میں غور کیجئے تو یہ صورتِ حال براہِ راست طور پر جدید مغربی تہذیب کا نتیجہ ہے ۔ جدید مغربی تہذیب نے عورت کو مرد کے برابر قرار دیا۔ اس نے عورتوں کے لیے علیحدہ روزگار کا انتظام کرکے انھیں یہ موقع دیا کہ وہ مردوں سے آزاد اپنی مستقل معاشی بنیاد حاصل کرسکیں ۔ اس بنا پر عورتوں کے اندر برابری کا احساس شدت کے ساتھ پیدا ہو گیا۔ تاہم یہ احساس مصنوعی تھا۔ کیوں کہ مذکورہ معاشی بندو بست کے باوجود مغربی تہذیب کے لیے یہ ممکن نہ ہوسکا کہ وہ فطرت کی اس تقیسم کو بدل دے کہ مرد پیدائشی طور پر صنف قوی ہے اور عورت پیدائشی طور پر صنف ضعیف ۔
اس مصنوعی مساوات کے نتیجہ میں ان ملکوں کی گھریلو زندگی ایک تضاد کا شکار ہو گئی۔ ان گھروں میں ایسی عورتیں رہنے لگیں جو اپنی جسمانی بناوٹ کے اعتبار سے تو مرد کے مقابلہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 1987 All issues