You really don't want me to stop.
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۷، صفحہ ۲۸
کرتے رہے۔ اس کے بعد مرد اس کے پاس آگیا اور آگے کے افعال کرنا شروع کر دیئے۔ عورت ٹھہرو ٹھہرو کہتی رہی۔ مگر مرد نہیں مانا۔ اس نے کہا کہ تم محض تکلف میں ایسا کہہ رہی ہو، ورنہ حقیقتًہ تم مجھے کو روکنا نہیں چاہتی ہو :
You really don't want me to stop.
اس کے بعد اس کمرہ میں وہ سب کچھ ہوا جس کو قانونی اصطلاح میں " زنا بالجبر " کہا جاتا ہے۔ اس قسم کی ڈیٹ ریپ (Date rape) موجودہ ترقی یافتہ ملکوں میں عام ہو چکی ہے۔ ڈیٹ کے ذریعہ بدکاری کرنا، بعض محققین کے نزدیک، آج کا بہت بڑا سماجی مسئلہ ہے ۔ کالج کے طلبہ کا جائزہ یہی بتاتا ہے جو کہ ۶۲۰۰ مردوں اور عورتوں کے درمیان ۳۲ کیمپس میں تین سال تک کیا گیا۔ ماہر نفسیات میری کاس نے پایا ہے کہ جن عورتوں کو اس قسم کے تجربات ہوئے جو کہ قانون کے مطابق زنا بالجبر کی تعریف میں آتے ہیں، ان میں آدھے سے زیادہ تعداد ڈیٹ کے ذریعہ بدکاری کرنے کی تھی۔ ایک لکچرر اینڈری نییرٹ نے اندازہ لگایا ہے کہ دو کیمپس جن کا اس نے جائزہ لیا، ان کی ۲۰ فیصد خواتین کے ساتھ زنا بالجبر کیا گیا تھا۔ ۱۹۸۵ میں زنا بالجبر کے واقعات کی تعداد ۸۷۳۴۰ تھی ۔ میری کاس نے کہا : ڈیٹ کے موقع پر بدکاری کا خطرہ اس سے زیادہ ہے کہ اچانک جھاڑی سے نکل کر کوئی اجنبی شخص ایسا کرنے لگے۔ آزادی نسواں کے بعض علم برداروں کا کہنا ہے کہ امریکہ میں ایک بدکاری کلچر پیدا ہو چکا ہے جس میں مردوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ عورتوں کے ساتھ جارحانہ When the Date Turns into Rape Date rape, according to some researchers, is a major social problem, so far studied mostly through surveys of college students. In a three-year study of 6,200 male and female students on 32 campuses. Kent State Psychologist Mary Koss found that 15% of all women reported experiences that met legal definitions of forcible rape. More than half those cases were date rapes. Andrea Parrot, a lecturer at Cornel University, estimates that 20% of college women at two campuses she surveyed had been forced into sex during their college years or before, and most of these incidents were date rapes. The number of forcible rapes reported each year — 87,340 in 1985 — is believed to be about half the total actually committed. Says Koss: You're a lot more likely to be raped by a date than by a stranger jumping out of the bushes. Some feminists argue that the U.S. has a ‘rape culture’ in which males are encouraged to treat women aggressively and women are trained to submit (p. 35).
‹ Previous page Next page › Contents of October 1987 All issues