You really don't want me to stop.
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۷، صفحہ ۲۶
انداز اختیار کریں اور عورتیں ان کے آگے سپر ڈال دیں۔
مسٹر سری پرکاش (سابق گورنر مہاراشٹر اور پاکستان میں پہلے ہندوستانی ہائی کمشنر) نے اپنی یادداشت میں لکھا ہے کہ ۱۹۴۷ء میں انہوں نے ایک انگریز سے پوچھا کہ تم لوگ ہم ہندوستانیوں کو حقیر کیوں سمجھتے ہو۔ انگریز نے اس سوال کے جواب میں جو کچھ کہا اس میں سے ایک بات یہ تھی : " آپ لوگ شادی کے سلسلہ میں بہت سی پابندیاں ملحوظ رکھتے ہیں۔ یورپ کا نظریہ یہ ہے کہ نوجوان لڑکا اور لڑکی خود ایک دوسرے کو پسند کر کے شادی کر لیں۔ آپ کے یہاں ایسا نہیں ہو سکتا۔ آپ لوگ سماجی بندھنوں میں جکڑے ہوئے ہیں (صفحہ ۱۷۲) آزادی نسواں کی تحریک کے آغاز میں یہ بات بہت اچھی معلوم ہوتی تھی۔ مگر غیر شادی شدہ لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان سے ہر قسم کی پابندیوں کو اٹھانے کا نتیجہ آخر کار قبل از نکاح صنفی تعلقات اور پھر زنا بالجبر کی صورت میں ظاہر ہوا۔ اس تجربہ نے بتایا کہ صنفی تعلقات کے معاملہ میں " پابندی " کا اصول ہی صحت مند اصول ہے۔ اس معاملہ میں " آزادی " کا اصول معاشرہ کو بربادی کے سوا اور کہیں نہیں پہنچاتا۔ ایک حدیث " ’’ڈیٹ " کا مذکورہ مغربی رواج اس بات کو جائز قرار دیتا ہے کہ غیر شادی شدہ عورت اور مرد تنہائی میں ایک دوسرے سے ملیں اور جتنی دیر تک چاہیں ایک ساتھ اپنے اوقات گزاریں ۔ اس رواج نے مغرب میں جو اندوہناک صورت حال پیدا کی ہے اس کو نظر میں رکھیے اور پھر مندرجہ ذیل حدیث پر غور کیجئے تو معلوم ہو گا کہ شریعت نے اس معاملہ میں جو اصول مقرر کیے ہیں وہ کس قدر با معنی ہیں :
من كان يؤمن بالله واليوم الآخر جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا فلا يخلون بامراة ليس معها ہو تو اس کو چاہیے کہ ہر گز وہ کسی ایسی عورت ذو محرم منها فان ثالثهما کے ساتھ خلوت میں نہ رہے جس کے ساتھ الشيطان (احمد) کوئی محرم موجود نہ ہو۔ کیوں کہ وہاں ان کا تیسرا شیطان ہوتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1987 All issues