Al-Risala · October 1987 · page 32

سرپرستی سے محروم

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۷، صفحہ ۳۲

سرپرستی سے محروم

ہفتہ وار ٹائم (۲۳ مارچ ۱۹۸۷) نے امریکہ کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کا عنوان ہے بچوں کی خودکشی (Teen Suicide) اس رپورٹ میں دکھایا گیا ہے کہ امریکہ میں ۱۰ سال اور ۲۰ سال کے درمیان کی عمر کے نوجوانوں میں خودکشی کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ۱۹۵۰ء کے مقابلہ میں یہ تعداد اب تین گنا زیادہ ہو گئی ہے ۔ ۱۹۸۵ میں ایک لاکھ آبادی پر ساٹھ نوجوانوں اور اتنے ہی بڑوں نے خودکشی کی۔ یہاں ہم تین خواتین کے تاثرات درج کرتے ہیں جو امریکی بچوں کی خودکشی کے سلسلہ میں مذکورہ رپورٹ میں نقل کیے گیے ہیں : باربرا ویلر نے کہا کہ میرا یہ خیال نہیں کہ خودکشی کے وقت یہ بچے سمجھتے ہوں کہ وہ مرنے جا رہے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ درد کو دور کرنے اور مسئلہ کو حل کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ الین لیڈر نے کہا کہ ہر شخص اس طرح دوڑ بھاگ میں ہے کہ ہمارے پاس وقت نہیں کہ ہم اپنے بچوں کو سن سکیں۔ بار برا اولیری نے کہا کہ جب اس قسم کا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو میں اپنے بچوں کے بارہ میں بہت زیادہ سوچنے لگتی ہوں۔ میری خواہش ہوتی ہے کہ میں ان کو درست طور پر پرورش کر سکوں۔ یہ ان کی زندگی کے خطرناک سال ہیں۔ آپ ہمیشہ یہ جان نہیں سکتے کہ ان کے دماغ میں کس طرح کے خیالات گھوم رہے ہیں۔

ٹائم (۲۳ مارچ ۱۹۸۷) کی مذکورہ رپورٹ پڑھنے کے بعد کچھ امریکی باشندوں نے مذکورہ ہفت روزہ کے نام خطوط لکھے ہیں جو ٹائم (۱۳ اپریل ۱۹۸۷) میں چھپے ہیں۔ ایک مکتوب نگار لکھتے ہیں کہ میرا دل ان خاندانوں کے لیے خون بہاتا ہے جن کے بچوں نے خودکشی کی ہے۔ میں خوب جانتا ہوں ۔ میرے ۱۶ سال کے پوتے نے اپنے گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کر لی ۔ ہمارا خاندان زندگی بھر حیران

‹ Previous page Next page › Contents of October 1987 All issues

Printed page