سرپرستی سے محروم
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۷، صفحہ ۳۳
رہے گا کہ ایسا کیوں ہوا۔ اور ہم کبھی اس کو جان نہ سکیں گے، ترقی یافتہ ملکوں کے نوجوانوں میں خود کشی کا رجحان کیوں ہے ۔ اس کی واحد وجہ ان کی اپنے سر پرستوں سے محرومی ہے۔ ان ملکوں میں خاندانی انتشار کا مسئلہ بہت بڑے پیمانے پر پیدا ہو گیا ہے اور یہی چیز ہے جس نے نوجوانوں کے اندر خود کشی کا رجحان پیدا کر دیا ہے ۔ وہ خاندان کی شفقت سے محروم ہو کر پرورش پاتے ہیں ، اور بڑے ہو کر طرح طرح کی نفسیاتی پیچیدگیوں میں مبتلا رہتے ہیں۔ یہ چیز بعض اوقات انھیں خود کشی تک پہنچا دیتی ہے ۔
ان ملکوں میں خاندانی انتشار پیدا ہونے کے دو بڑے اسباب ہیں۔ ایک یہ کہ انھوں نے ازدواجی زندگی کی بنیاد ذمہ داری کے بجائے لذت پر قائم کی ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ازدواجی تعلق میں مستقل تقدس کی قدر باقی نہ رہی۔ لوگ لذت کی خاطر ایک دوسرے سے ملنے اور لذت ختم ہونے پر ایک دوسرے سے الگ ہونے لگے ۔ اس نظریہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ طلاق عام ہو گئی ۔ طلاق کے بعد عورت ایک طرف چلی گئی اور مرد دوسری طرف ۔ انھوں نے اس دوران میں جو بچہ پیدا کیا تھا، اس کا کوئی سر پرست نہ رہا۔ وہ والدین کی موجودگی میں یتیم بن کر رہ گیا ۔ اس کی دوسری وجہ ان ملکوں میں مشترک زندگی کا خاتمہ ہے ۔ انھوں نے زندگی کا جو طرز اختیار کیا اس کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ بوڑھے ماں باپ دار الصغار میں بھیجے جانے لگے۔ مشترک خاندان میں دادا اور دادی ، نانا اور نانی بچوں کو سنبھالنے کے لیے موجود ہوتے ہیں۔ مگر مغرب کی معاشرت میں ان لوگوں کا مقام گھر نہیں بلکہ وہ ضعیف خانے ہیں جو خاص طور پر اسی مقصد کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ یہی معاملہ ایک اور صورت میں والدین کے ساتھ ہوا ہے۔ وہاں کے نظام کے مطابق مرد اگر کام کرتا ہے تو عورت بھی کام کرتی ہے ۔ نتیجہ یہ ہے کہ دونوں بیشتر اوقات گھر سے باہر رہتے ہیں۔ اپنے بچوں سے ان کی ملاقات بمشکل صرف " اتوار " کے دن ہوتی ہے۔ گویا مغرب کا بچہ اپنے دادا اور دادی یا نانا اور نانی سے اس لیے محروم ہے کہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 1987 All issues