Al-Risala · October 1987 · page 34

خاتون سنگر کی موت کے بعد

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۷، صفحہ ۳۴

وہ دار الصنعقار میں منتقل ہو گئے ہیں ۔ اور اپنے ماں باپ سے اس لیے محروم ہے کہ وہ دونوں کام کرنے کے لیے آفس چلے گئے ہیں ۔ ایسے بچوں کا وہی انجام ہو سکتا ہے جو اوپر کی مثال میں نظر آتا ہے ۔

خاتون سنگر کی موت کے بعد

ٹائمس آف انڈیا ( ۳۰ مارچ ۱۹۸۷ ) میں ایک رپورٹ جاپان کے متعلق شائع ہوئی ہے۔ اس رپورٹ کا عنوان ہے :

Suicide Easy Escape for Japanese Youth

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ۱۹ سال کے اندر کے جاپانی نوجوانوں میں خودکشی کے واقعات تیزی سے بڑھے ہیں ۔ ۱۹۸۵ میں ایسے نوجوانوں کی تعداد ۵۵۷ تھی ۔ جب کہ ۱۹۸۶ میں ان کی تعداد ۸۰۲ تک پہنچ گئی ۔

خودکشی کرنے والے اکثر نوجوان وہ تھے جو عمارتوں کی چھتوں سے کود پڑے ۔ یہ واقعہ اس کے بعد ہوا جب کہ ۱۸ سالہ خاتون پاپ سنگر یوکی کو اوکا دانے محبت میں ناکامی کے بعد ایک چھت سے کو دکر اپریل ۱۹۸۶ میں اپنی جان دے دی تھی ۔ نوجوانوں نے بھی اسی کی نقل کی ۔ کچھ لوگ جنھوں نے اس طریقہ سے اپنی جان دی وہ مس اوکا داکي موت سے غم زدہ تھے ۔ انھوں نے چاہا کہ وہ بھی موجودہ دنیا سے رخصت ہو جائیں اور جنت میں پہنچ کر اپنی دل پسند سنگر سے جاملیں۔ کچھ لوگوں نے مرتے وقت ایسی تحریر چھوڑی جس میں مذکورہ پاپ سنگر خاتون کا نام لکھا ہوا تھا :

Many were youngsters who jumped from roofs of buildings after 18-year old pop singer Yukiko Okada used that method of killing herself in April 1986 because of an unhappy love affair. Some of the people who died killed themselves because they felt sorry for her (Miss Okada) and wanted to be in heaven with her. A few left notes mentioning the singer (p. 6). یہ ان بے شمار نقصانات میں سے ایک نقصان ہے جو عورتوں کو ” اسکرین “ کی چیز بنانے کے بعد ظاہر ہوتا ہے۔ عورت اگر گھر کو سنبھالے تو وہ نو جوان نسل کو زندگی دینے والی ثابت

‹ Previous page Next page › Contents of October 1987 All issues

Printed page