Al-Risala · October 1987 · page 37

بے قیدی کا تجربہ

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۷، صفحہ ۳۷

بچے اپنے ذہنی اور جسمانی ارتقاء سے محروم رہتے ہیں۔

ڈاکٹر گارڈنر (Dr. Gardner) کا کہنا ہے کہ مطالعہ بتاتا ہے کہ دماغ کی اعلیٰ سطح سے ارتعاشات (Impulses) اٹھتے ہیں۔ یہ ارتعاشات جسمانی نظام میں داخل ہو کر مختلف قسم کے ہارمون پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں جو زندگی کی نشوونما کرنے کے لئے ضروری ہیں۔ ان میں سے ایک وہ ہے جو پروٹین کو شکر میں تبدیل کرتا ہے۔ ماں باپ کی محبت سے محروم ہو کر جو بچے پرورش پاتے ہیں ان میں یہ قدرت کی علیٰ کم ہو جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کا جسم حاصل شدہ پروٹین کو پوری طرح استعمال نہیں کر پاتا جو ان کے نشوونما کے لئے انتہائی ضروری ہے۔

یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ فطرت کے راستے سے ہٹنا کس قدر تباہ کن ہے۔ انسان خدا کی بنائی ہوئی دنیا سے ہٹ کر اپنے لئے کوئی دوسری دنیا نہیں بنا سکتا۔ اس کے لئے لازم ہے کہ اسی دنیا کے ساتھ مطابقت کرے۔ اگر وہ فطرت کی شاہراہ کو چھوڑ کر اپنے لئے کوئی دوسری شاہراہ بنا نا چاہے گا تو وہ صرف ناکامی اور بربادی پر ختم ہوگا۔ اس کے سوا اس کا کوئی انجام نہیں۔

بے قیدی کا تجربہ

امریکی میگزین نیوز ویک (۲۱ جنوری ۱۹۸۵) صفحہ ۳۵ پر ایک تصویر ہے۔ اس تصویر میں امریکی خواتین کا ایک جلوس دکھائی دے رہا ہے۔ جلوس کے آگے ایک نوجوان عورت ایک بینر اٹھائے ہوئے ہے۔ اس کے اوپر جلی حرفوں میں لکھا ہوا ہے:

Keep your laws and your morality off my body اپنے قوانین اور اپنے اخلاق کو میرے جسم سے دور رکھو۔

مضمون میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کے لوگ اس وقت دوگروہوں میں بٹ گئے ہیں۔ ایک وہ جو کھلے عام اسقاط کے قائل ہیں۔ یہ لوگ اپنے کو " اسقاط نواز" نہ کہہ کر اپنے کو انتخاب نواز (Pro-choice) کہتے ہیں۔ دوسرا اگر وہ جو اسقاط کا مخالف ہے وہ اپنے آپ کو زندگی نواز (Pro-life) کہتا ہے۔

جدید مغربی مفکرین کا کہنا ہے کہ انھوں نے جو سب سے بڑی چیز دریافت کی ہے وہ آزادی ہے۔ مگر بے قید آزادی کا تجربہ جو جدید مغرب میں ہوا وہ بتا تا ہے کہ آزادی خیر اعلیٰ نہیں ہو سکتی۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1987 All issues

Printed page