خاتون لیڈر کا اعتراف
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۷، صفحہ ۳۸
آزادی اگر خیر اعلیٰ ہو تو وہ اس قبیح انجام تک کیسے پہنچ جاتی ہے جس کا ایک نمونہ اوپر کے اقتباس میں نظر آتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ آزادی بے حد قیمتی چیز ہے۔ مگر انسان کے لئے خیر اعلیٰ پابند آزادی ہے نہ کہ مطلق آزادی۔ یعنی انسان کے مقابلہ میں آزادی مگر خدا کے مقابلہ میں پابندی۔ انسان خدا اور بندے کے درمیان ہے۔ جہاں تک اپنے جیسے انسانوں کا تعلق ہے، ان کے مقابلہ میں بلاشبہ ہر انسان کو کامل آزادی حاصل ہے۔ مگر اسی کے ساتھ دوسری شدید تر حقیقت یہ ہے کہ خدا کے مقابلہ میں انسان مکمل طور پر پابند ہے۔ خدا کے مقابلہ میں کسی انسان کو کوئی آزادی حاصل نہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کو اپنی آزادی کا استعمال اس طرح کرنا ہے کہ وہ ہر حال میں خدا کے احکام کا پابند رہے۔ یہی پابندی آزادی کے صحیح استعمال کی ضمانت ہے۔
خاتون لیڈر کا اعتراف
امریکہ کی مشہور ناول نگار خاتون اور تحریک نسواں کی لیڈر رہوڈالرمن اپریل، ۱۹۸۰ء میں ہندوستان آئیں۔ یہاں نئی دہلی میں انھوں نے ٹائمز آف انڈیا کے ایک اسٹاف رپورٹر کو انٹرویو دیا۔ یہ انٹرویو اخبار مذکور کے شمارہ ۳۰ اپریل، ۱۹۸۰ء میں شائع ہوا ہے۔ یہ پورا انٹرویو علیحدہ صفحہ پر نقل کیا جا رہا ہے۔
رہوڈالرمن نے کہا کہ میں بہت بری خبر لے کر آئی ہوں۔ سماج میں عورت کے بدلتے ہوئے کردار پر بولتے ہوئے انھوں نے انکشاف کیا کہ امریکہ کے غریبوں میں ۷۷ فی صد تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے۔ ان کے بیان کے مطابق اس کا سبب وہ غیر معمولی فرق ہے جو مردوں اور عورتوں کی کمائی کے درمیان پایا جاتا ہے۔ مردوں کے مقابلہ میں عورتوں کی کمائی ۶۲ فی صد ہے۔ صرف اس لیے کہ انہیں ہلکے قسم کے کام دیئے جاتے ہیں۔ یکساں مواقع اور یکساں تنخواہ یکساں کام کے لیے محض ایک افسانہ ہے۔ عورتیں ابھی تک صرف نچلے اور درمیانی انتظامی شعبوں میں داخل ہو سکی ہیں۔
ان کا خیال ہے کہ یہ امتیاز مردانہ تعصب کی بنا پر ہے جو کہ عورتوں کے خلاف کام کر رہا ہے۔ مردوں کا کہنا ہے کہ عورتوں پر انحصار نہیں کیا جا سکتا، کیوں کہ وہ زچگی کی چھٹی لیتی ہیں اور بچے
‹ Previous page Next page › Contents of October 1987 All issues