خاتون لیڈر کا اعتراف
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۷، صفحہ ۴۰
پالتی ہیں۔ اگر چہ ۹۶ فی صد کام کرنے والی عورتوں کے یہاں بچے ہیں ، ان میں سے صرف ۷ ، ۶ فی صد اس اندیشہ کے بغیر زچگی کی چھٹی سے فائدہ اٹھا پاتی ہیں کہ اس سے ان کی ملازمت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ تا ہم سینیریٹی کا نقصان انھیں ہمیشہ اٹھانا پڑتا ہیں۔ زچگی اور بچوں کی پرورش تنخواہوں میں زبر دست فرق کا سبب ہے۔ معاشی حقیقت روحانی برابری سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔ آزادی نسواں کے علم برداروں نے جنسی برابری اور اسقاطِ حق کے لیے شور و غل کیا اور اس کو حاصل کر لیا ، وہ اس معاشی تباہی کا اندازہ نہ کر سکے جو کہ اس کے بعد آنے والی تھی ۔ انقلابی نسوانی تحریک کے تحت عورت اور مرد برابر مان لیے گئے ہیں ، مگر عورت کو اس کے حیاتیاتی فرق کی کوئی رعایت نہیں ملی ۔ مثال کے طور پر ، امریکہ میں ہر دو شادی میں سے ایک شادی طلاق پر ختم ہوتی ہے ۔ اس کے بعد بچہ کی پرورش کی ذمہ داری تنہا عورت پر آ جاتی ہے ۔ نفقہ اور گزاره محض لفظی قوانین ہیں ، وہ بہت ہی کم عمل میں آتے ہیں ۔ صرف ۵ سے ۱۰ فی صد تک ایسے مرد ہیں جو گزارہ ادا کرتے ہیں ، اور وہ بھی صرف پہلے سال تک ۔ بعد کے سالوں میں پورا بوجھ صرف ماں کو اٹھانا پڑتا ہے ۔ اس طرح زندگی کا معیار ایک مطلقہ عورت کے لیے ۳۷ فی صد تک گھٹ جاتا ہے ، اور مرد کا اس کے مقابلہ میں ۳۴ فی صد بڑھ جاتا ہے ۔
ایسے گھروں کی تعداد بڑھ رہی ہے جن میں صرف عورت ذمہ دار ہو اور وہ تنہا ماں اور باپ دونوں کا کردار ادا کرے ۔ چنانچہ اگلے دس برسوں میں ۴۰ تا ۵۰ فی صد بچے وہ ہوں گے جو ایسے گھروں میں پرورش پائیں گے جن کی ذمہ دار صرف عورت ہو ۔ یہ ایک غیر صحت مندانہ مظہر ہے جس کے نتیجہ میں بچوں میں خود کشی کے واقعات بڑھ رہے ہیں ۔ خاندانی نظام میں انحصار کے فقدان کی وجہ سے خود کشی بچوں کی خصوصیت بن رہی ہے۔
اشتراکی نسوانیت جو کہ مرد اور عورت کے درمیان پائے جانے والے ناگزیر فرق کو ملحوظ رکھتی ہے آج وقت کی پکار ہے ۔ امریکی زندگی کے بارہ میں ( (ابتداء ہمارا ایک بڑھا ہوا خواب تھا ــــــــ ایک شوہر جو کام کرے ، شہر کے کنارے ایک مکان ، دو لڑکے ، دو کاریں اور ماں جو گھر پر رہے اور کیک بنائے ، مگر آزادی نسواں کی تحریک نے اس خواب کو منتشر کر دیا ،
‹ Previous page Next page › Contents of October 1987 All issues