Al-Risala · October 1987 · page 41

دو مثالیں

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۷، صفحہ ۴۱

خاندانی نظام کے ٹوٹنے کے بعد صرف حکومت کی مدد ہی مسئلہ کو حل کر سکتی ہے۔ حکومت کی طرف سے بچوں کی نگہداشت کے لیے مراکز ہوں، زچگی کی چھٹی کی سہولت ہو اور تنہا عورت کی معاشی کمیوں کی تلافی کے لیے اس کو مدد دی جائے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ہماری فتوحات جھوٹی فتوحات بن کر رہ جائیں گی یا ایسی ہی آزادی جس کا تجربہ چتا کے اد پر ہوتا ہے۔ امریکہ کی خاتون لیڈر نے مذکورہ بیان میں اعتراف کیا ہے کہ تحریک نسواں کی کامیابیاں پیرک فتوحات (Pyrric Victories) بن کر رہ گئی ہیں۔ تیسری صدی قبل مسیح میں ایک یونانی بادشاہ تھا جس کا نام پرھس (Pyrrhus) تھا۔ اس نے ۲۸۱ ق م میں اٹلی پر حملہ کیا۔ لمبی جنگ کے بعد اس کو فتح حاصل ہوئی۔ مگر فتح تک پہنچتے پہنچتے وہ اپنا سب کھو چکا تھا۔ چنانچہ بعد کو ۲۷۵ ق م کی جنگ میں اس کو دوبارہ شکست ہوئی۔ ۲۷۲ ق م میں اس کو قتل کر دیا گیا۔ پرک وکٹری اسی کی طرف منسوب ہے۔ اس کا مطلب ہے ـــــ ایسی فتح جو بربادی لے کر آئے ۔

یہ صحیح ترین لفظ ہے جو جدید عورت کی فتح کے بارہ میں بولا جا سکتا ہے ۔ جدید عورت نے لمبی جدوجہد کے بعد " مساوات " حاصل کی۔ مگر اس خیالی مساوات کو حاصل کرنے تک وہ اپنا سب کچھ کھو چکی تھی۔ مذکورہ خاتون کا کہنا ہے کہ مغربی عورت کی محرومی کی تلافی کی اب صرف ایک صورت ہے۔ یہ کہ حکومت اس کی سرپرست بن جائے ، وہی حکومت جو آج بھی پوری طرح مردوں کے قبضہ میں ہے ۔ گھریلو مرد کی سرپرستی پر عورت راضی نہ تھی ۔ اس کی قیمت میں عورت کو حکومتی مرد کی سرپرستی پر راضی ہونا پڑا۔

دو مثالیں

آزادی کے مصنوعی تصور نے مغربی گھروں میں جو مسائل پیدا کیے ہیں، ان کا تعلق صرف نچلے یا درمیانی طبقہ کے لوگوں سے نہیں ہے۔ اس کے برے اثرات اونچے خاندانوں اور نہایت اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں تک پہنچے ہوئے ہیں ۔ اس سلسلہ میں یہاں ہم دو مثالیں نقل کریں گے ۔

حال میں آئن سٹین کے کچھ خطوط ملے ہیں۔ یہ خطوط اس نے ایک عورت (میلیوا میرک)

‹ Previous page Next page › Contents of October 1987 All issues

Printed page