Al-Risala · October 1987 · page 45

And in the end he found himself alone' (p. 10).

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۷، صفحہ ۴۵

میں ایک غیر عورت کے ساتھ رات گزاری تو ہر طرف ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ یہ واقعہ اس بات کا تجرباتی ثبوت ہے کہ غیر عورت کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنا فطرت انسانی کے خلاف ہے۔ اگر یہ فعل انسانی فطرت کے خلاف نہ ہوتا تو ہنگامہ کرنے والے کبھی اپنے منصوبہ میں کامیاب نہیں ہو سکتے تھے ۔

مسٹر ہارٹ نے اس مصیبت سے بچنے کے لیے اپنی ساری ذہانت صرف کر دی۔ پہلے انھوں نے انکار کیا۔ پھر ٹالنے والے جوابات دیتے رہے۔ انھوں نے اپنی بیوی لی ہارٹ (Lee Hart) کو راضی کیا کہ وہ ۱۳۰۰ میل کا سفر طے کر کے ٹیم ٹائرس سے ڈنور (Denver) پہنچیں اور اخبار نویسوں کے سامنے اپنا یہ بیان دیں کہ یہ بات اگر مجھے پریشان نہیں کرتی، تو میں نہیں سمجھتی کہ کسی اور کو اس سے پریشان ہونا چاہیے :

If it doesn't bother me, I don't think it ought to bother anyone else (p. 7). مسٹر ہارٹ نے جب دیکھا کہ معاملہ کو چھپانے کے بارہ میں ان کی ساری تدبیروں کے باوجود راز کھل گیا ہے تو آخر کار انھوں نے اعتراف کر لیا ۔ اب انھوں نے کہا کہ زنا کوئی قانونی جرم نہیں ہے۔ وہ صرف ایک گناہ ہے۔ اور وہ میرے اور میری بیوی اور میرے اور خدا کے درمیان ہے : Adultery is not a crime. It's a sin. And that is between me and Lee, and me and God (p. 7). تاہم مسٹر ہارٹ کی یہ باتیں امریکی عوام کو مطمئن نہ کر سکیں ۔ او پینین پول میں اس سے پہلے امکانی صدر کی حیثیت سے ان کا نام سر فہرست رہتا تھا۔ اب پول کے ذریعہ عوام کی پیشگی رائے معلوم کی گئی تو اچانک ان کا نام بالکل نیچے آگیا۔ اس کے بعد مسٹر ہارٹ نے اپنے آپ کو ملک میں تنہا پایا :

And in the end he found himself alone' (p. 10).

ٹائم (۱۸ مئی ۱۹۸۷) کے الفاظ میں ایکٹرس سے جنسی تعلق ان کے لیے ان کی سیاسی موت (Political death) کے ہم معنی بن گیا۔ ۳ مئی کو اس معاملہ کا انکشاف ہوا اور صرف پانچ دن

‹ Previous page Next page › Contents of October 1987 All issues

Printed page