Al-Risala · November 1987 · page 8

دوسری مثال

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۷، صفحہ ۸

دینے کی ہدایت جاری کر دی ، جب کہ آیت کے اصل الفاظ کے مطابق مطلق کے لیے صرف بوقت رخصت کچھ نقد یا سامان دینے کی گنجائش نکلتی تھی ۔

قرآن کے اعتبار سے مذکورہ فیصلہ بلاشبہ غلط تھا۔ مگر دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اس کے بعد مسلمانوں نے کیا کیا۔ انھوں نے اپنی ساری توجہ صرف سپریم کورٹ کے فیصلہ پر لگا دی نہ کہ مسلمان مترجم کے انگریزی ترجمہ پر۔ انھوں نے سپریم کورٹ کے خلاف تو اتنا طوفان اٹھایا کہ زمین و آسمان ایک کر دیا۔ مگر مسلمانوں کی کسی بھی جماعت یا کسی بھی قابل ذکر مسلم لیڈر کے اندر یہ تڑپ پیدا نہیں ہوئی کہ انگریزی کا ایک صحیح اور مستند ترجمہ قرآن وجود میں لایا جائے تاکہ آئندہ کسی ”دشمن اسلام“ کو یہ موقع نہ ملے کہ وہ ہمارے اپنے ترجمہ کا حوالہ دے کر ہمارے خلاف شرانگیزی کرسکے ۔

واٹر ٹینک کا پانی بہہ کر چھت سے نیچے آرہا ہو تو زمین کی قوت کشش کے خلاف شور وغل کرنا بے فائدہ ہے۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ واٹر ٹینک کا سوراخ بند کیا جائے ۔ اسی طرح آپ کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر کوئی شخص آپ پر وار کرے تو دوسرے شخص کے خلاف چیخ پکار کرنے کے بجائے اپنی کمزوری کو دور کرنے میں لگ جائیے ، اس کے بعد آپ خود بخود دوسروں کے وار سے محفوظ ہو جائیں گے۔

دوسری مثال

چاند مل چوپڑانے ۱۹۸۵ میں بنگال ہائی کورٹ میں ایک رِٹ کی اپیل داخل کی۔ اس میں ہائی کورٹ سے کہا گیا تھا کہ وہ دستور ہند کی دفعہ ۲۲۶ کے تحت حکومت مغربی بنگال کے نام ہدایت جاری کرے کہ وہ قرآن کی اشاعت اور تقسیم پر پابندی عائد کر دے۔ چاند مل چوپڑانے اپنی اپیل میں قرآن کے انگریزی ترجموں سے مختلف آیتیں نقل کی تھیں اور کہا تھا کہ یہ آیتیں اپنے پڑھنے والے کے اندر لڑائی کی اسپرٹ ابھارتی ہیں اور اس طرح ملک کے اندر قیام امن میں رکاوٹ ہیں ۔

چاند مل چوپڑہ کی یہ درخواست بلاشبہ لغو تھی ، اور اس کی اسی لغویت کی بنا پر مسٹر جسٹس باسک نے ، مئی ۱۹۸۵ کو اس کے خلاف فیصلہ دیا اور یہ کہہ کر اسے خارج کر دیا:

‹ Previous page Next page › Contents of November 1987 All issues

Printed page