احتجاج یا احتساب
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۷، صفحہ ۷
احتجاج یا احتساب
ملک کی تقسیم (۱۹۴۷) سے لے کر اب تک کی پوری تاریخ میں ہندوستانی مسلمانوں نے جس مسئلے پر سب سے زیادہ دھوم مچائی ہے وہ شاہ بانو بیگم کا مشہور معاملہ ہے۔ محمد احمد خاں۔ شاہ بانو بیگم کیس (1981 .Criminal Apeal No. of) پر ہندوستان کی سپریم کورٹ نے ۲۳ اپریل ۱۹۸۵ کو فیصلہ دیا۔ اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو باقی رکھا کہ محمد احمد خاں اپنی مطلقہ بیوی شاہ بانو بیگم کو 179.20 روپیہ ماہانہ بطور گزارہ (Maintenance) ادا کریں۔
یہ فیصلہ جو (Criminal P.C. (2 of 1974) S. 125-Maintenance) کے تحت دیا گیا تھا، اس میں فاضل جج نے قرآن کی آیت کا بھی حوالہ دیا اور یہ کہا کہ مطلقہ عورت کو گزارہ دینا عین قرآنی تعلیم کے مطابق ہے۔ انھوں نے اپنے فیصلے میں قرآن سے سورہ البقرہ کی آیت ۲۴۱ نقل کی۔ سپریم کورٹ نے اپنے انگریزی فیصلے میں اصلاً قرآن کے جس انگریزی ترجمہ پر انحصار کیا وہ عبداللہ یوسف علی کا ترجمہ تھا۔ انھوں نے مذکورہ آیت کا ترجمہ ان الفاظ میں کیا ہے : For divorced women maintenance (should be provided) on a reasonable (scale). This is a. duty on the righteous. قرآن کی مذکورہ آیت میں ”متاع“ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اس کا ترجمہ عبداللہ یوسف علی نے Maintenance کے لفظ سے کیا ہے۔ یہ ترجمہ صحیح نہیں ۔ اصل یہ ہے کہ عربی زبان میں دو لفظ بالکل الگ الگ مفہوم رکھتے ہیں۔ ایک متاع، دوسرے نفقہ۔ متاع کا مساوی لفظ انگریزی زبان میں Provision ہے۔ اور نفقہ کا مساوی لفظ Maintenance ہے۔ اس اعتبار سے مذکورہ آیت کا صحیح ترجمہ یہ ہوگا کہ اس میں (Provision) کا لفظ استعمال کیا جائے جو وقتی عطیہ کے ہم معنی ہے۔ مگر عبداللہ یوسف علی نے غلط طور پر اس کے ترجمہ میں Maintenance کا لفظ استعمال کیا جو مستقل گزارہ کا مفہوم رکھتا ہے۔
سپریم کورٹ نے عبداللہ یوسف علی کے اس ترجمہ سے فائدہ اٹھایا اور مطلقہ کو ماہانہ گزارہ
‹ Previous page Next page › Contents of November 1987 All issues