ملت کی کہانی
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۷، صفحہ ۱۱
اور شریک نہ بنیں ۔ گویا کہ پوری ملت اس وقت یک ہی کام میں مشغول ہے، اور وہ احتجاجی سیاست ہے، ایک طبقہ اس میں براہ راست طور پر ملوث ہے اور دوسرا طبقہ بالواسطہ طور پر۔ یہ بے حد خطر ناک علامت ہے۔ کیوں کہ قرآن و حدیث کے مطابق یہ وہ چیز ہے جو قوموں کو غضب الہی کا مستحق بنا دیتی ہے ۔
یہ کھلی ہوئی اسلام کی خلاف ورزی ہے۔ کیوں کہ اس طرح کے معاملات میں اسلام کا طریقہ احتجاج نہیں ہے بلکہ احتساب ہے۔ اس طرح کے قومی امور میں ہمیں صرف یہ کرنا ہے کہ اپنی داخلی کوتاہیوں کو تلاش کر کے ان کی اصلاح میں سرگرم ہوں، نہ یہ کہ کسی خارجی عنصر کو "ظالم" قرار دے کر اس کے خلاف شور و غل میں مشغول ہو جائیں ۔ اس معاملہ میں مسلمانوں کی غلط روش کو واضح کرنے کے لیے میں اسلامی تاریخ سے دو مثالیں پیش کرتا ہوں ۔
احد کے موقع پر مکہ کے لوگ چڑھائی کر کے مدینہ پر حملہ آور ہوئے تھے ۔ حنین میں قبیلہ ہوازن نے دھوکا دے کر مسلمانوں کے اوپر حملہ کر دیا تھا ۔ ان دونوں مواقع پر مسلمانوں کو کافی نقصان اٹھانا پڑا ۔ اس اعتبار سے بظاہر یہ ہونا چاہیے تھا کہ دونوں معاملات میں مسلمانوں کے نقصان کی ساری ذمہ داری فریق ثانی پر ڈال کر صرف اسی کو برا بھلا کہا جائے ۔ مگر اس کے باوجود قرآن نے ایسا نہیں کیا۔ بلکہ اس نے ایک طرفہ طور پر مسلمانوں کو تنبیہ کی کہ تمہاری فلاں فلاں کمزوریوں نے فریق ثانی کو یہ موقع دیا کہ وہ تمہارے خلاف اپنے دشمنانہ منصوبہ میں کامیاب ہو سکیں ۔ غزوہ احد۳ھ میں ہوا، اور غزوہ حنین 8ھ میں ۔ یہ دونوں واقعات خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پیش آئے ۔ چنانچہ ان دونوں کے بارے میں قرآن میں تبصرہ نازل ہوا ۔ اس لحاظ سے یہ دونوں معیاری نمونے ہیں جن پر ہمیں اپنے مسائل کو جانچنا چاہیے ۔ اس اعتبار سے جب ہم دیکھتے ہیں تو ہم پاتے ہیں کہ قرآن کا انداز سراسر اس کے برعکس ہے جو موجودہ زمانہ میں مسلم قائدین نے اختیار کر رکھا ہے۔ موجودہ مسلم قائدین کی روش کے خلاف، قرآن نے فریق ثانی کے "ظلم اور سازش " کے بارہ میں کچھ نہیں کہا۔ اس نے دونوں لڑائیوں کے نقصان کی ذمہ داری خود مسلمانوں کی بعض کمزوریوں پر ڈالی۔ احد کے واقعہ کے بارے میں قرآن نے یہ کہا کہ تمہارے اختلاف و نزاع (آل عمران ۱۵۲) کی وجہ سے تمہیں یہ
‹ Previous page Next page › Contents of November 1987 All issues