Al-Risala · November 1987 · page 12

ملت کی کہانی

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۷، صفحہ ۱۲

نقصان اٹھانا پڑا۔ اسی طرح حنین کے بارہ میں قرآن نے اعلان کیا کہ اس موقع پر تمہیں جس نقصان سے دوچار ہونا پڑا، اس کا سبب تمہارا فخر اور عجب (التوبہ ۲۵) تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان اگر خدائی پکڑ سے ڈرتے ہوں اور قرآن وسنت کو اپنی زندگی کا رہنما بنائیں تو ان کے لیے کامیابی کا صرف ایک ہی راستہ ہے۔ وہ اپنے مصائب کا الزام دوسروں کو دے کر ان کے خلاف چیخ پکار کا موجودہ مشغلہ مکمل طور پر بند کر دیں۔ اس کے برعکس ان کے تمام مفکرین اور رہنما صرف اس ایک مہم میں لگ جائیں کہ وہ مسلمانوں کی ان داخلی کمزوریوں کو دور کریں جس کی وجہ سے دوسروں کو یہ موقع مل رہا ہے کہ وہ انہیں اپنے مخالفانہ عزائم کا نشانہ بنائیں اور ہمیشہ اپنے مقصد میں کامیاب رہیں ۔ جس دن مسلمانوں کی داخلی کمزوریاں ختم ہوں گی ، اسی دن اغیار کے تمام مخالفانہ منصوبے بے زمین ہو کر رہ جائیں گے اور آخر کار اپنی موت آپ مر جائیں گے ۔ بہت جلد وہ دن آنے والا ہے جب کہ ہم میں سے ہر شخص خدا وند عالم کے سامنے کھڑا ہوگا۔ اُس دن حقیقت آخری حد تک کھل چکی ہوگی۔ خوبصورت الفاظ کی دیواریں جو آج لوگوں نے اپنے گرد کھڑی کر رکھی ہیں، سب اس روز ڈھ جائیں گی۔ لوگ اِس طرح ننگے ہو جائیں گے کہ درخت کے پتے بھی نہ ہوں گے جن سے وہ اپنے آپ کو چھپا سکیں ۔ مبارک ہے وہ جس کے لئے وہ دن سعی مشکور کی خوش خبری لے کر آئے۔ بد نصیب ہے وہ جس کا دین اس روز قبول نہ کیا جائے اور خدا اُس سے کہہ دے ــــ تم جس بات کے حکم بردار بنے ہوئے تھے وہ محض تمھارے دماغ کی اپج تھی، وہ میری بات ہی نہیں تھی ۔

صفحات ۳۴۴ قیمت ۳۵ روپیہ مکتبہ الرساله، نئی دہلی

‹ Previous page Next page › Contents of November 1987 All issues

Printed page