زمانہ با تو نہ سازد تو باز مانہ ستیز
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۷، صفحہ ۱۶
فی صد بھی مفید ثابت نہ ہو سکا۔ تاہم لیڈروں کی اس جماعت نے خود اپنے مسئلہ کے لیے جو نسخہ استعمال کیا وہ انتہائی کارگر ثابت ہوا۔ یہ نسخہ کسی شاعر کے کلام سے لینے کے بجائے قرآن سے لیا گیا تھا۔ یہ نسخہ وہی تھا جس کو قرآن میں تالیف قلب کہا گیا ہے۔
لیڈروں کی اس جماعت کو ایک ہمسایہ یونیورسٹی کے ہند و طلبہ سے خطرہ پیدا ہوا۔ یہاں انھوں نے ضرر رسانی کے بجائے نفع رسانی کی تدبیر استعمال کی۔ انھوں نے ان ہند و طلبہ سے ملاقاتیں کیں، اپنے یہاں ان کی دعوتیں کیں، ان کو ہیرو بنا کر انھیں انعامات دیے۔ اس طرح ان کے دل کو جیت کر اپنے مسئلہ کو حل کر لیا۔ اس پورے واقعہ کی تفصیل "حل یہاں ہے" نامی کتاب میں دیکھی جا سکتی ہے۔
اب میں مسلمانوں کو یہ مشورہ دوں گا کہ مسلمان لیڈر اگر ٹکراؤ کی باتیں کریں تو ان کی بات بالکل نہ سنو بلکہ وہی کرو جو وہ خود کرتے ہیں۔ یعنی اپنے غیر مسلم پڑوسیوں سے اچھے تعلقات بناؤ۔ ان سے خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آؤ، ان کے لیے نفع بخش بننے کی کوشش کرو۔ ان سے تمہیں ناخوش گواری کا تجربہ ہو تب بھی تم اپنی طرف سے ان کے سامنے خوش گوار رد عمل پیش کرو، اور اس کے بعد تمہارے مسائل اسی طرح حل ہو جائیں گے جس طرح لیڈر صاحبان کے مسائل حل ہو گئے۔ ۳۔ ایک صاحب نے بتایا کہ شمالی ہند کے ایک مقام پر مسلمانوں کا ایک جلسہ تھا، میں بھی اس میں شریک تھا۔ ایک باریش مسلمان لیڈر نے تقریر کی ۔ انھوں نے جوش و خروش کے ساتھ بابری مسجد کا ذکر کیا اور کہا کہ "بابری مسجد خون مانگ رہی ہے "۔ جب تقریر ختم ہوئی تو مذکورہ بزرگ لیڈر صاحب کے پاس گیے اور کہا کہ اجازت ہو تو ایک بات پوچھوں۔ اس کے بعد انھوں نے کہا کہ آپ نے اپنی تقریر میں یہ فرمایا ہے کہ بابری مسجد خون مانگ رہی ہے۔ اس سلسلہ میں صرف اتنا اور جاننا چاہتا ہوں کہ کس کا خون، میرے بچوں کا یا آپ کے بچوں کا۔ لیڈر صاحب نے کہا کہ میرا تو صرف ایک بچہ ہے اور وہ اس وقت عرب میں زیر تعلیم ہے۔ مذکورہ صاحب نے کہا تو گویا آپ اپنی اولاد کو تو تعلیم و ترقی کے میدان میں سرگرم کیے ہوئے ہیں اور دوسروں کی اولاد کو کٹنے مرنے کے میدان میں سرگرم کرنا چاہتے ہیں۔ اس پر لیڈر صاحب بگڑ گئے۔
اصل یہ ہے کہ ہمارے تمام لیڈر صرف الفاظ کا جہاد کر رہے ہیں۔ وہ دوسروں کو جوش
‹ Previous page Next page › Contents of November 1987 All issues