Al-Risala · November 1987 · page 15

زمانہ با تو نہ سازد تو باز مانہ ستیز

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۷، صفحہ ۱۵

جہاد میں کود پڑیے۔ اب ان کا لہجہ بدل گیا۔ انھوں نے کہا کہ میں اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلا رہا ہوں تاکہ وہ ڈاکٹر اور انجینئر بن کر قوم کی خدمت کریں۔ کیا یہ جہاد نہیں ۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ مسلمان لیڈروں کے فسادات سے محفوظ رہنے کا ایک راز یہ ہے کہ وہ قوم کے بچوں کے سامنے پرجوش تقریریں کر کے انھیں لڑائی کے میدان میں بھیج رہے ہیں اور خود اپنے بچوں کو اس قسم کے جھگڑوں سے دور رکھ کر تعلیم کے میدان میں مصروف کیے ہوئے ہیں۔ اب عام مسلمانوں کو بھی یہی کرنا چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو پرامن " جہاد " کے میدان میں لگا دیں۔ اس کے بعد وہ بھی اسی طرح فسادات کی زد سے محفوظ رہیں گے جس طرح ان کے لیڈر اور لیڈرصاحبان کے بیٹے بیٹیاں محفوظ ہیں۔

ہمارے تمام لیڈروں کا حال یہ ہے کہ وہ عمل کے بز دل ہیں اور الفاظ کے بہادر ۔ اس پالیسی سے ان کو یہ زبر دست فائدہ ہو رہا ہے کہ " قتل عام " کے ماحول میں بھی وہ اور ان کے گھر والے قتل ہونے سے پوری طرح بچے ہوئے ہیں۔ پھر کیوں نہ عام مسلمان بھی اسی پالیسی کو اختیار کر لیں۔ ایسا کر کے وہ صرف اپنے لیڈروں کی پیروی کریں گے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ ۲۔ اس سلسلے میں ایک بے حد سبق آموز مثال وہ ہے جو راقم الحروف نے اپنی کتاب (حل یہاں ہے) میں درج کی ہے۔ یہ مثال تفصیلی صورت میں کتاب کے صفحہ ۴۲۔ ۴۵ پر دیکھی جاسکتی ہے۔ مسلم لیڈر صاحبان کی ایک جماعت نے ۱۹۶۷ کے درمیان بڑے جوش و خروش کے ساتھ اٹھی۔ اس تحریک کا مرکز شمالی ہند تھا۔ انھوں نے مسلم مسائل کے حل کا وہ نسخہ پیش کیا جس کو اقبال نے اپنے الفاظ میں اس طرح بیان کیا ہے :

زمانہ با تو نہ سازد تو باز مانہ ستیز

انھوں نے کہا کہ ہمیں لڑکر اپنا حق وصول کرنا ہے۔ اس لڑائی “ کا پہلا میدان ملکی انتخاب قرار پایا۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں کانگریس (بالفاظ دیگر ہندو قیادت کو انتخابی میدان میں شکست دینا ہے۔ ہم جب اس طرح اپنی قوت کا مظاہرہ کریں گے تو تمام لیڈر سہم جائیں گے اور اپنے آپ کو امکانی سیاسی نقصان سے بچانے کے لیے ہمارے تمام مسائل حل کر دیں گے۔ ۱۹۴۶ء کے الیکشن میں ضرررسانی کے اس نسخہ کا تجربہ کیا گیا مگر یہ نسخہ مسلمانوں کے لیے ایک

‹ Previous page Next page › Contents of November 1987 All issues

Printed page