Al-Risala · November 1987 · page 18

زمانہ با تو نہ سازد تو باز مانہ ستیز

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۷، صفحہ ۱۸

اس کے بعد کوئی نقصان پہنچانے والا ان کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

۵۔ لیڈر صاحبان عام طور پر مسلمانوں کو یہ سبق دیتے ہیں کہ تم کو دب کر نہیں رہنا ہے، اگر تم دب گئے تو لوگ تم کو اور زیادہ دبائیں گے۔ یہاں تک کہ تمہارا خاتمہ ہی کر دیں گے۔ مگر یہی لیڈر حضرات اس وقت دبنے کے طریقے پر عمل کرکے اپنے مسئلہ کو حل کرتے ہیں جب کہ خود ان کا ذاتی معاملہ زد میں آگیا ہو۔

ایک لیڈر صاحب کا ایک ادارہ تھا۔ اس ادارہ کے احاطہ میں امرود کا ایک باغ تھا۔ قریب کے محلہ کی ایک گائے اس باغ میں گھس آئی۔ مسلم باغبان نے گائے کو بھگانے کے لیے اسے مارا۔ اتفاق سے اس کو گردن کے پاس سخت چوٹ آگئی۔ اس کے بعد جب وہ بھاگنے لگی تو باغ کے کنارے کے خار دار تار میں پھنس کر وہ اور زیادہ زخمی ہو گئی۔ یہ گائے جب اپنے ہندو مالک کے گھر پہنچی تو اس کے خون آلود جسم کو دیکھ کر ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ جب معلوم ہوا کہ مسلم ادارہ کے آدمی نے اس کو مارا ہے تو محلہ کے لوگ سخت مشتعل ہو گئے۔ ایک بڑا مجمع ادارہ کے احاطہ میں گھس آیا۔ وہ اشتعال انگیز نعرے لگارہا تھا اور یہ مطالبہ کر رہا تھا کہ مارنے والے آدمی کو ان کے حوالہ کیا جائے۔ اس دوران میں وہ آدمی باغ چھوڑ کر بھاگ گیا تھا اور ادارہ کے ایک کمرے میں چھپ گیا تھا۔ ادارہ والوں نے دیکھا کہ اس وقت یہ مجمع سخت غصہ میں ہے، اس لیے اس وقت آدمی کو ان کے حوالے کرنا مناسب نہ ہوگا۔ وہ مجمع کی اشتعال انگیزی سے مشتعل نہیں ہوئے ۔ انھوں نے حکیمانہ گفتگو کرکے اس کو ایک دن کے لیے ٹال دیا۔ اور کہا کہ آپ ہمیں ایک دن کا موقع دیجئے ۔ ہم اس آدمی کو تلاش کر کے کل تک ضرور اس کو آپ کے حوالے کر دیں گے ۔

مجمع کو واپس کرنے کے بعد ادارہ کے لوگوں نے باغبان کو بلایا اور اس سے کہا کہ دیکھو، ایک طرف تمہاری ذات ہے اور دوسری طرف ایک پورا مسلم ادارہ ہے اگر وہ تم کو نہیں پاتے ہیں تو وہ اپنا غصہ سب لوگوں پر اتاریں گے ۔ تم ہمت کر کے اللہ کے بھروسہ پر ایسا کرو کہ گائے کے مالک کے یہاں جاکر حاضر ہو جاؤ اور اپنی غلطی کا اقرار کر لو۔ ان سے کہو کہ یہ میری ذاتی غلطی ہے، آپ مجھ کو جو سزا چاہیں دیں۔ اگر وہ لوگ کچھ جذبہ میں آکر تمہیں ڈانٹیں ماریں تو اس کو بھی برداشت

‹ Previous page Next page › Contents of November 1987 All issues

Printed page