زمانہ با تو نہ سازد تو باز مانہ ستیز
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۷، صفحہ ۱۴
کر لینا ۔ چنانچہ اگلے دن وہ آدمی گائے کے مالک کے پاس گیا اور اس سے کہا کہ میں حاضر ہو گیا ہوں ۔ واقعہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے ۔ آپ جو فیصلہ کریں وہ مجھ کو منظور ہے ۔ انسان بہر حال انسان ہے ۔ باغبان جب اس طرح حاضر ہو گیا اور اس نے سیدھے طور پر غلطی کا اعتراف کر لیا تو گائے والوں کے جذبات بھی ٹھنڈے پڑ گئے ۔ انہوں نے کہا کہ خیر اب جاؤ۔ اگر کل تم مل گئے ہوتے تو ہم تم کو مارے بغیر نہیں چھوڑتے ۔ اب گائے کو ہم نے اسپتال میں داخل کر دیا ہے ۔ اگر وہ مرگئی تو البتہ تمہیں اس کی قیمت ادا کرنی ہوگی ۔ (جمعیتہ ویکلی ، دھلی، ۲۷ اکتوبر ۱۹۷۶)
اس طرح ایک معاملہ جو ایک مسلم ادارہ بلکہ پورے شہر میں آگ لگا سکتا تھا، وہ نہایت آسانی سے وہیں کا وہیں ختم ہو گیا۔ ادارہ والوں نے جس تدبیر کا تجربہ اپنے ذاتی معاملہ میں کیا اسی کا سبق اگر وہ پوری قوم کو اس طرح کے معاملات میں دیں تو کتنے ہوتے ہوئے حادثات ہونے سے رہ جائیں۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے قائدین اپنے ذاتی معاملات کو حکیمانہ تدبیر کے ذریعہ حل کرتے ہیں ۔ اور ملت کو یہ سبق دیتے ہیں کہ تم خدا کے فوجدار ہو ، کسی کی پروا کیے بغیر مجاہدانہ طور پر لڑ جاؤ ۔ تاہم مسلمانوں کو میں یہ مشورہ دوں گا کہ اس معاملہ میں وہ لیڈروں کی تقریروں کو ہرگز نہ سنیں ، وہ ان کے عمل کو دیکھیں ۔ یہ لیڈر صاحبان جس طرح خاموش تدبیر سے اپنے ذاتی معاملہ کو حل کرتے ہیں ، اسی طرح وہ بھی اپنے معاملات کو حل کریں ، اور اس کے بعد انشاءاللہ وہ ہر فساد سے محفوظ ہو جائیں گے ۔
۶۔ عرب کے سفر میں میری ملاقات ایک ہندوستانی مسلمان سے ہوئی۔ پہلے وہ ہندوستان میں مسلمانوں کے درمیان لیڈری کرتے تھے ۔ اس کے بعد انھیں عرب میں ایک اچھا کام مل گیا اور وہ وہاں منتقل ہو گئے ۔ آج کل وہ عرب میں خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ ہندوستان کیسا وحشی ملک ہے ۔ وہاں آئے دن فسادات ہوتے رہتے ہیں۔ وہاں کسی مسلمان کی جان و مال محفوظ نہیں ۔ آپ دیکھئے ہم لوگ یہاں کتنے سکون کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں ۔
میں نے کہا کہ یہ ادھوری بات ہے ۔ یہاں کا نظام آپ کو جو کچھ دے رہا ہے اس کا آپ
‹ Previous page Next page › Contents of November 1987 All issues