Al-Risala · November 1987 · page 24

زمانہ با تو نہ سازد تو باز مانہ ستیز

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۷، صفحہ ۲۴

انھوں نے بگڑ کر کہا کہ اس کا کیا مطلب ہے۔ میں نے کہا کہ آپ اپنے ذاتی معاملہ میں مفاہمت کے اصول پر قائم ہیں۔ اور دوسروں کو ٹکراؤ کے راستہ پر لے جانا چاہتے ہیں۔ آپ کا سابقہ جن ہندوؤں داخلی افسران، سے پڑتا ہے ان کے ساتھ آپ مبالغہ آمیز حد تک اسی نرم روش کو اپنائے ہوئے ہیں جس کی تلقین الرسالہ میں کی جاتی ہے۔ دوسری طرف مسلمانوں کے معاملہ میں یہ چاہتے ہیں کہ ان کا سابقہ جن ہندوؤں سے پڑے ان کے مقابلہ میں وہ آخری حد تک کٹنے بن جائیں۔ مذکورہ مسلم دانشور اور ان کے جیسے دوسرے تمام مسلمانوں کے معاملات پوری طرح درست ہیں۔ ان کے بچے اعلیٰ ڈگریاں لے کر بڑی بڑی ترقیاں حاصل کر رہے ہیں۔ اس کا راز صرف یہ ہے کہ وہ زبان سے اگرچہ لڑائی بھڑائی کی باتیں کرتے ہیں، مگر عملاً اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو لڑائی بھڑائی سے سیکڑوں میل دور رکھتے ہیں۔ اب میں مسلمانوں کو مشورہ دوں گا کہ وہ بھی اسی طریقہ کو اپنا لیں۔ تصادم اور اقدام، جیسی باتوں کو وہ صرف کہنے کی بات سمجھیں وہ ہر گز انہیں اپنا عملی پروگرام نہ بنائیں۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کا اور ان کے بچوں کا مستقبل بھی اسی طرح محفوظ رہے گا جس طرح ہمارے رہنماؤں اور دانشوروں کا مستقبل پوری طرح محفوظ ہے۔

خلاصہ

اوپر جو کچھ کہا گیا، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے "قتل عام" کے باوجود خود مسلمانوں کا ایک طبقہ ایسا موجود ہے جس کو اب بھی اس ملک میں حفاظتِ عام حاصل ہے۔ یہ طبقہ مسلم لیڈروں کا ہے۔ یہ دراصل مسلم لیڈر ہی ہیں جو ہندوستان میں مذکورہ "قتل عام" کا انکشاف کرتے رہتے ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ یہ واقعہ ہے کہ خود مسلم لیڈر اس قتل عام سے ہمیشہ اپنے آپ کو بچانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں ۔

ہم مسلمانوں کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ اس معاملہ میں وہ بھی وہی کریں جو ان کے لیڈر کرتے ہیں۔ لیڈروں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں کرتے نہیں۔ فرقہ وارانہ نقصان سے بچنے کے لیے مسلمان بھی اپنے لیڈروں کی اسی آزمودہ تدبیر کو اختیار کر لیں۔ مسلمان اپنے لیڈروں کے قول کو نہ دیکھیں بلکہ وہ صرف ان کے عمل کو دیکھیں۔ اس معاملہ میں لیڈر لوگ دوسروں سے جو کچھ کہتے ہیں اس کو وہ نظر انداز کر دیں، اور صرف یہ پتہ لگائیں کہ وہ خود کیا کر رہے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1987 All issues

Printed page