Al-Risala · November 1987 · page 23

زمانہ با تو نہ سازد تو باز مانہ ستیز

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۷، صفحہ ۲۳

کرنے کی ضرورت نہ رہے گی کہ ان کا جان و مال اس ملک میں غیر محفوظ ہے ۔ اگر آپ لیڈر صاحبان کی زندگی کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ لیڈروں کے محفوظ رہنے کا نسخہ وہی حکمت اور احتیاط کا طریقہ ہے جو الرسالہ میں پچھلے دس سال سے پیش کیا جا رہا ہے ۔ یہ لیڈر صاحبان بظاہر الرسالہ کی بات کو نظر انداز کرتے ہیں مگر اپنی ذاتی زندگی میں وہ پوری طرح اس طریقہ کو اپنائے ہوئے ہیں۔ پھر آپ بھی کیوں نہ اسی حفاظتی طریقہ کو اپنا لیں۔ ایسا کر کے آخر کار آپ وہی کریں گے جو آپ کے لیڈر بہت پہلے سے کر رہے ہیں۔ ۹۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان ایک ریاست میں سرکاری ملازم ہیں۔ ایک بار وہ اپنے محکمہ کے کام سے دہلی آئے ۔ درمیان میں انھیں اپنے "چیف" سے بات کرنے کی ضرورت پیش آئی ۔ چنانچہ انھوں نے دہلی سے ٹرنک کال کیا۔ جب وہ ٹیلی فون پر اپنے چیف سے بات کر رہے تھے تو میں نے سنا کہ ان کی زبان سے صرف " ہاں صاحب ، جی صاحب ، " ہاں صاحب ، جی صاحب" کے الفاظ نکل رہے ہیں۔ اس وقت اگرچہ وہ اپنے چیف سے سیکڑوں میل دور تھے۔ مگر حال یہ تھا کہ بات کرتے ہوئے کرسی سے اٹھے چلے جا رہے تھے ، جیسے کہ چیف صاحب خود ان کے سامنے موجود ہوں ۔

"ہندو چیف" سے جب ان کی بات ختم ہو گئی تو ان سے مسلمانوں کی موجودہ حالت پر گفتگو شروع ہوئی۔ اس درمیان میں الرسالہ کا نام آیا۔ ان کا لہجہ فوراً بدل گیا۔ انھوں نے کہا آپ تو پوری قوم کو بزدل بنا دینا چاہتے ہیں۔ میں آپ کے الرسالہ کا سخت مخالف ہوں! انھوں نے پر جوش طور پر کہا کہ اسلام ہمیشہ اقدام کی تعلیم دیتا ہے۔ اور آپ مسلمانوں کو انفعالی روش کی طرف لے جانا چاہتے ہیں :

Islam stands for an active approach in all matters and forbids all that leads to a passive surrender. میں نے آہستگی سے کہا کہ مجھ میں اور آپ میں جو فرق ہے وہ نقطہ نظر کا فرق نہیں ہے۔ بلکہ اصلی فرق یہ ہے کہ آپ ایک ڈبل اسٹینڈرڈ آدمی ہیں اور میں ڈبل اسٹینڈرڈ آدمی نہیں۔ میرا ایک ہی اصول ہے ، ایک معاملہ میں بھی اور دوسرے معاملہ میں بھی ۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1987 All issues

Printed page