Al-Risala · November 1987 · page 26

زمانہ با تو نہ سازد تو باز مانہ ستیز

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۷، صفحہ ۲۶

چاہے جہاں جاکر برس، تیرا اخراج میرے ہی پاس آئے گا (امطری حیث شئت فسیاتینی خراجك) ، اگر امریکہ کہنا چاہے تو وہ کہہ سکتا ہے کہ تم جو بھی سفر کرو خواہ میرے موافق یا میرے خلاف ، کیٹلکس آخر کار میرے ہی پاس آئے گا ۔

تقریباً یہی صورتِ حال ہمارے ملک میں اکثریتی فرقہ کی ہورہی ہے ۔ ہندوستان کے تمام بارتی شعبوں پر اکثریتی فرقہ کا قبضہ ہو چکا ہے ۔ پچھلے سوسالہ عمل کے نتیجہ میں یہاں اکثریتی فرقہ لی حیثیت " دکاندار " کی ہوگئی ہے اور اقلیتی فرقہ کی حیثیت " خریدار " کی۔ یہ سب سے بڑا حادثہ ہے جو اقلیتی فرقہ کی جدید تاریخ میں اس کے ساتھ پیش آیا ہے ۔

۴ مارچ کو راجدھانی میں اقلیتی فرقہ کی ایک " عظیم الشان ریلی " تھی ۔ یہ ریلی اکثریتی فرقہ کی زیادتیوں کے خلاف احتجاج کے طور پر کی گئی تھی ۔ ریلی میں شرکت کرنے والے کچھ لوگ مجھ سے ملنے کے لیے آئے ۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کی ریلی میں کتنے آدمی شریک ہوئے ۔ انھوں نے پُر فخر طور پر کہا کہ کم از کم پانچ لاکھ ۔ میں نے پوچھا کہ شتر کا ، کا خرچ فی کس کتنا ہوگا ۔ ان کا اندازہ تھا کہ فی کس اوسط خرچ ایک سو روپیہ ہو گا ۔ میں نے کہا کہ پانچ لاکھ آدمی اگر فی کس ایک سو روپیہ خرچ کریں تو کل کتنی رقم ہوئی ۔ انھوں نے کہا کہ پانچ کروڑ ۔ میں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے صرف ایک دن میں پانچ کروڑ روپے خرچ کر دیئے ۔ اب اگر اس صورتِ حال کو سامنے رکھا جائے کہ اس ملک میں دولت کی گردش یک طرفہ ہوگئی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اقلیتی فرقہ نے صرف ایک دن میں پانچ کروڑ روپے اپنی جیب سے نکال کر اکثریتی فرقہ کی جیب میں ڈال دیئے ۔ اقلیتی فرقہ کو تو کچھ نہیں ملا ۔ مگر اس فرقہ کو اس کا پورا حصہ مل گیا جس کے خلاف آپ نے احتجاج کیا تھا ۔

ہندوستان بظاہر بیل گاڑی کے سفر کے دور سے نکل کر ہوائی جہاز کے سفر کے دور میں داخل ہوگیا ہے ۔ مگر ترقی یافتہ ملکوں سے تقابل کیجئے تو ہندوستان کی ہوائی سروس نہایت ناقص نظر آئے گی ۔ حتی کہ یہاں کے ہوائی جہازوں میں بعض اوقات ایسے عجیب و غریب لطیفے پیش آتے ہیں جو ترقی یافتہ ملکوں میں ناقابل تصور سمجھے جاتے ہیں ۔

یکم اپریل ۱۹۸۷ء کے اخبارات میں ایک خبر حسب ذیل سنسنی خیز سرخی کے ساتھ شائع

‹ Previous page Next page › Contents of November 1987 All issues

Printed page