مَنْ أَنْصَارِي إِلَى اللَّهِ
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۷، صفحہ ۴۵
مَنْ أَنْصَارِي إِلَى اللَّهِ
الرسالة (انگریزی) کے دو شمارے ایک پروفیسر صاحب کی نظر سے گزرے ۔ اس کے بعد انھوں نے ہمارے نام ایک خط لکھا ہے۔ یہ خط یہاں انھیں کے لفظوں میں نقل کیا جاتا ہے : اس طرح کے خطوط ہم کو برابر ملتے رہتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انگریزی الرساله جاری شده فروری ۱۹۸۸ء) پورے عالم اسلام کا واحد پرچہ ہے جو خالص دعوتی اور تعمیری انداز میں نکل رہا ہے۔ وہ مسلمانوں کے قومی جھگڑوں سے مکمل طور پر الگ ہو کر دین خدا کی بے آمیز دعوت کو عالمی سطح پر سمجھی جانے والی زبان میں پیش کر رہا ہے۔
موجودہ زمانہ میں تمام مسلمان یا تو ملی تحفظ کے کاموں میں مشغول تھے یا قومی جھگڑوں کے میدان میں سرگرمی دکھارہے تھے۔ پورے عالم اسلام میں کوئی ایک جریدہ ایسا نہ تھا جو خدا کے دین کی ایجابی دعوت کو بین اقوامی زبان میں پیش کرے۔ ایسی حالت میں الرساله (انگریزی) کا نکلنا گویا پوری امت کی طرف سے فرض کفایہ کی ادائیگی کا انتظام ہے۔ اب امت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کو تمام دنیا میں غیر مسلم قوموں کے تعلیم یافتہ افراد تک پہنچائے ۔
ضرورت ہے کہ ہر مسلمان کم از کم ایک تعلیم یافتہ غیر مسلم بھائی کے نام الرساله انگریزی کو اپنی طرف سے جاری کرائے۔ یہ دعوتِ حق کی مہم میں اپنے آپ کو شامل کرنا ہے، اور دعوتِ حق کی مہم میں شامل ہونے سے زیادہ بڑی کوئی سعادت انسان کے لیے نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1987 All issues