پریس کانفرنس سے خطاب
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۷، صفحہ ۴۴
دوسروں سے ٹکراؤ کو واؤنڈ کرتے ہوئے اپنی زندگی کا سفر طے کرنا ، ممکن چیز (Possible) سے اپنا کام شروع کرنا نہ کہ اس چیز سے جو نا ممکن (Impossible) ہے ۔ اس کے سوا جو طریقے ہیں وہ سب کھونے کے طریقے ہیں ، وہ پانے کے طریقے نہیں ہیں ۔
جاگ یا اویرنس پیدا کرنے کا کام اسی وقت مفید ہو سکتا ہے جب کہ وہ تعمیری انداز میں ہو۔ یعنی اس کا رخ اپنی طرف نہ کہ دوسروں کی طرف ۔ دوسروں سے مانگ کرنے کے بجائے اپنے آپ کو دیکھا جائے ۔ اپنے حقوق سے زیادہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس ابھارا جائے ۔ لوگوں کے اندر جذباتی اندازِ فکر (Emotional approach) ختم کیا جائے اور ان کے اندر عقلی اندازِ فکر (Rational approach) پیدا کرنے کی کوشش کی جائے ۔ یہ ذہن بنایا جائے کہ لوگ معاملہ کو دوسرے کے اوپر نہ ڈالیں بلکہ اس کی ذمہ داری خود قبول کریں ۔ جہاں معاملہ ایک سے زیادہ آدمیوں کا ہو وہاں ذمہ داری خود قبول کرنے سے مسئلہ حل ہوتا ہے ، دوسروں کے اوپر ڈالنے سے کبھی مسئلہ ختم نہیں ہو سکتا ۔
اویرنس پیدا کرنے کا یہ کام مجاریٹی کمیونٹی اور مائناریٹی کمیونٹی دونوں کے درمیان کرنا ہے۔ دونوں کے اندر یہ سوچ ابھارنا ہے کہ وہ دوسروں کو بلیم دینے کا طریقہ چھوڑیں اور اپنے آپ میں جھانک کر دیکھنے کا مزاج پیدا کریں ۔ وہ ماضی کی باتوں کو بھلائیں اور مستقبل کے لحاظ سے اپنی منصوبہ بندی کریں ۔ تاہم اس وقت میں اس کوشش کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو میں اور میرے ساتھی مائناریٹی کمیونٹی کے اندر کر رہے ہیں ۔
مسلمانوں کو ہم پچھلے دس سال سے اسی ڈھنگ پر ایجوکیٹ کر رہے ہیں ، اور لٹریچر اور ملاقات اور کیسٹ اور تقریروں کے ذریعہ ان کے اندر تعمیری شعور (Mind building) کی مہم چلا رہے ہیں ۔ اس سلسلہ میں ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ بہت لمبی بات ہے ۔ ہمارے اردو اور انگلش میگزین کو دیکھ کر اس کی تفصیل معلوم کی جاسکتی ہے ۔ یہاں میں بات کو واضح کرنے کے لیے صرف دو بات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں ۔ (باقی)
‹ Previous page Next page › Contents of November 1987 All issues