Human Rights and Value Education.
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۷، صفحہ ۴۷
اور اردو اور فارسی اور پشتو زبانیں سیکھیں۔ وہ الرسالہ کے مستقل قاری ہیں۔ انھوں نے ”اسلامی تعلیمات“ کے ایک باب (آدمی کا امتحان) کے بارے میں اپنا تاثر حسب ذیل الفاظ میں روانہ کیا ہے:
ایک صاحب اپنے خط ۱۸ جولائی ۱۹۸۷ میں غازی پور سے لکھتے ہیں: الرسالہ پابندی سے برابر موصول ہو رہا ہے۔ میں الرسالہ پڑھنے کے بعد متعدد لوگوں کو دے دیا کرتا ہوں جو کہ اس کا مطالعہ بڑے ذوق شوق کے ساتھ کرتے ہیں اور بحمد اللہ اس کے مطالعہ کے بعد میں نے لوگوں میں بڑی تبدیلیاں محسوس کیں۔ سوچنے سمجھنے اور بحث کرنے کا ان کا انداز یکسر بدل گیا۔ یہ ایک خاموش انقلاب ہے جو ایک خوب صورت انداز میں لوگوں کی زندگی پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ خوش گوار تبدیلی بے حد مفید اور عظیم ثابت ہوگی (ڈاکٹر ایس ایچ صدیقی)
ایک صاحب اپنے خط (۲۹ جولائی ۱۹۸۷) میں لکھتے ہیں: الرسالہ کے ذریعہ ہم ایک عظیم فتنہ سے بچے، میرا دل، جس میں پہلے تعصب کی بھٹیاں جلتی رہتی تھیں، الحمد للہ اس میں اب اللہ کی توفیق سے دوسروں کے لیے خیر خواہی ہے۔ اللہ میری کوتاہیوں سے درگزر فرمائے (شاد حسین، سرینگر)
اسلامی مرکز کے فکر کی مزید اشاعت کے لیے یہ مہم شروع کی گئی ہے کہ ملک کے بڑے بڑے انگریزی اخبارات میں خطوط شائع کرائے جا رہے ہیں. اس قسم کے متعدد خطوط قومی روزناموں میں چھپ چکے ہیں اور خدا کے فضل سے ان کا اچھا اثر مرتب ہو رہا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1987 All issues