Al-Risala · February 1987 · page 2

دنیا کا قانون

الرسالہ، فروری ۱۹۸۷، صفحہ ۲

دنیا کا قانون

گائے دودھ دیتی ہے ۔ یہ ہر آدمی جانتا ہے ۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو یہ سوچتے ہوں کہ گائے کیسے دودھ دیتی ہے ۔ گائے دودھ جیسی چیز دینے قابل صرف اس وقت بنتی ہے جب کہ وہ گھاس کو دودھ میں کنورٹ ( تبدیل ) کر سکے ۔ گائے جب اس انوکھی صلاحیت کا ثبوت دیتی ہے کہ وہ کم تر چیز کو اعلیٰ چیز میں تبدیل کر سکتی ہے ، اسی وقت یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ خدا کی دنیا میں دودھ جیسی قیمتی چیز فراہم کرنے والی بنے ۔

یہی حال درخت کا ہے ۔ درخت سے آدمی کو دانہ اور سبزی اور پھل ملتا ہے ۔ مگر ایسا کب ہوتا ہے ۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب کہ درخت اس صلاحیت کا ثبوت دے کہ اس کے اندر مٹی اور پانی ڈالا جائے اور اس کو وہ تبدیل کر کے کے دانہ اور سبزی اور پھل کی صورت میں ظاہر کرے درخت کے اندر ایک کم تر چیز داخل ہوتی ہے اور اس کو وہ اپنے اندرونی میکانزم کے ذریعہ تبدیل کر دیتا ہے اور اس کو بر تر چیز کی صورت میں باہر لاتا ہے ۔

یہی معاملہ انسانی زندگی کا بھی ہے ۔ زندگی بھی اسی قسم کا امتحان ہے ۔ موجودہ دنیا میں انسان کے ساتھ بھی یہی ہوتا ہے کہ اس کو محرومیوں سے سابقہ پڑتا ہے ، اس کو نا خوش گوار حالات پیش آتے ہیں ۔ یہاں دوبارہ انسان کی کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنے نا موافق حالات کو موافق حالات میں تبدیل کر سکے ۔ وہ اپنی نا کامیوں کے اندر سے کامیابی کا راستہ نکال لے ۔ یہی دنیا کا قانون ہے ، انسان کے لیے بھی اور غیر انسان کے لیے بھی ۔ جو کوئی اس خاص صلاحیت کا ثبوت دے ، وہی اس دنیا میں کامیاب ہے ، اور جو اس صلاحیت کا ثبوت دینے میں ناکام رہے وہ خدا کی اس دنیا میں اپنے آپ کو ناکامی سے بھی نہیں بچا سکتا ۔ خدا کی گائے گویا خدا کی مرضی کا اعلان ہے ۔ وہ بتاتی ہے کہ اس دنیا میں خدا کو ہم سے کیا مطلوب ہے ۔ خدا کو ہم سے یہ مطلوب ہے کہ ہمارے اندر " گھاس " داخل ہو اور وہ " دودھ " بن کر باہر نکلے ۔ لوگ ہمارے ساتھ برائی کریں تب بھی ہم ان کے ساتھ بھلائی کریں ۔ ہمارے ساتھ نا موافق حالات پیش آئیں تب بھی ہم ان کو موافق حالات میں تبدیل کر سکیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1987 All issues

Printed page