تخلیقی اقلیت
الرسالہ، فروری ۱۹۸۷، صفحہ ۳
تخلیقی اقلیت
آرنلڈ ٹائن بی (۱۸۸۳- ۱۹۵۲) ایک انگریز مورخ ہے۔ ۱۹۵۴ میں اس نے اپنی مشہور کتاب تاریخ کا مطالعہ (A Study of History) چھاپی۔ یہ کتاب بارہ جلدوں میں ہے۔ اور اس میں ۲۱ تہذیبوں کا فلسفیا مطالعہ کیا گیا ہے ۔
اس کتاب میں ٹائن بی نے دکھایا ہے کہ کسی قوم کا ابھرنا اس پر منحصر نہیں ہوتا کہ وہ کسی اعلیٰ نسل سے ہے یا زیادہ بہتر جغرافی حالات اسے حاصل ہو گئے ہیں۔ بلکہ اس کا انحصار کسی قوم کی اس صلاحیت پر ہے کہ پیش آمدہ چیلنج کا جواب وہ کس طرح دیتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس دنیا میں ہمیشہ وہ قومیں ابھرتی ہیں جو خصوصی مشکلات پیدا ہونے کے وقت خصوصی جدوجہد کر سکیں۔ تہذیبوں کے ابھرنے کے بارے میں ٹائن بی کی تو جیہات اس نظریہ پر قائم ہیں کہ جو چیز نہ لوگوں تہذیبی کامیابی حاصل کرنے کے قابل بناتی ہے وہ مشکل حالات ہیں نہ کہ آسان حالات ؛
The rise of a civilization was not the result of such factors as superior racial qualities or geographical environment but rather as a people's response to a challenge in a situation of special difficulty that rouses them to make an unprecedented effort. Difficult rather than easy conditions prompted men to cultural achievement (4/659). ٹائن بی کا کہنا ہے کہ تہذیب کو ہمیشہ کوئی تخلیقی اقلیت (Creative Minority) پیدا کرتی ہے۔ یہ دراصل چیلنج کا جواب دینے کا عمل (Challenge-response mechanism) ہے، جو کسی قوم کو ابھارتا ہے اور اس کو دنیا کا امام بناتا ہے۔ بالفاظ دیگر اس دنیا میں محروم ہونا کوئی ناپسندیدہ بات نہیں۔ کیوں کہ محرومی آدمی کے اندر پانے کا جذبہ ابھارتی ہے۔ اور اس طرح اُس کو زیادہ باعمل بنا کر اس کے لیے زیادہ بڑی کامیابی کا امکان پیدا کر دیتی ہے۔ مشکل حالات میں گھری ہوئی ایک قوم اگر ردعمل کی نفسیات میں مبتلا ہو تو وہ اپنے حالات سے صرف فریاد و احتجاج کی غذا لے گی۔ اور اگر وہ حالات سے اوپر اٹھ کر مثبت طور پر سوچے تو اس کو نظر آئے گا کہ اس کے مشکل حالات اس کو نئی شاندار تر کامیابی کا زینہ فراہم کر رہے ہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1987 All issues