Al-Risala · December 1987 · page 2

تبدیلی کا نظام

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۲

تبدیلی کا نظام

قرآن میں اہل ایمان کی صفت یہ بتائی گئی ہے کہ وہ گناہوں سے اور بے حیائی کے کاموں سے بچتے ہیں ، اور جب انہیں غصہ آتا ہے تو وہ معاف کر دیتے ہیں (وَإِذَا مَا غَضِبُوَا هُمُ یَغْفِرُونَ ، الشُّورٰی ۳۷)

اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ اہل ایمان رد عمل کی نفسیات کا شکار نہیں ہوتے کہ وہ برائی کا جواب برائی سے دیں اور جب کوئی شخص غصہ دلانے والا کام کرے تو غصہ ہو کر اس کے ساتھ بھی وہی کرنے لگیں جو اُس نے ان کے ساتھ کیا ہے۔ بشری تقاضے کے تحت انھیں دوسرے کی غلط بات پر غصہ تو ضرور آتا ہے ، مگر جب وہ اس کو لوٹاتے ہیں تو غصہ نہیں لوٹاتے ، بلکہ غصہ کے جواب میں اسے معافی اور درگزر کا سلوک لوٹاتے ہیں۔

یہ عین وہی قانون ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنی پوری دنیا کا نظام قائم کر رکھا ہے۔ یہاں ہر چیز اس ڈھنگ پر بنائی گئی ہے کہ اس کو جو کچھ باہر سے ملے اس کو وہ اسی طرح اگّل نہ دے بلکہ اپنے اندرونی نظام کے تحت اس کو تبدیل کرے۔ وہ کمتر چیز کو بہتر چیز بنا کر خارج کرے۔ درخت کو زمین سے ”مٹی“ ملتی ہے۔ مگر اس کو وہ پتی اور پھول اور پھل میں تبدیل کر کے باہر لاتا ہے۔ اس کو بیرونی فضا سے کاربن ڈائی آکسائڈ دیا جاتا ہے ، مگر وہ اس کو اپنے اندر جذب کر کے باہر کی دنیا کو آکسیجن کا تحفہ عطا کرتا ہے۔ ”گائے “ اسی تبدیلی کا ایک زندہ کارخانہ ہے۔ وہ گھاس کھاتی ہے اور دودھ نکالتی ہے۔ وہ غیر دودھ کو دودھ میں تبدیل کرتی ہے : The cow is a living factory which converts non-milk into milk. خدا پرست انسان کو بھی اسی اصولِ فطرت پر رہنا ہے جس پر دنیا کی بقیہ چیزیں قائم ہیں۔ اس کو یہ کرنا ہے کہ دوسرے لوگ جب اس کے ساتھ برا سلوک کریں اور اس کی وجہ سے اس کے اندر غصہ اور نفرت اور انتقام بھڑک اُٹھے تو وہ ان منفی جذبات کو مثبت جذبات میں تبدیل کرے۔ وہ برے سلوک کا جواب اچھے سلوک سے دے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1987 All issues

Printed page