Al-Risala · December 1987 · page 3

ازالہ سبب

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۳

ازالہ سبب

ایک حکیم صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایک تجربہ کار حکیم ہیں اور اپنے فن پر کامل عبور رکھتے ہیں۔ انھوں نے ایلو پیتھی اور طب یونانی کا تقابلی کرتے ہوئے کہا کہ دونوں کے طریق علاج میں ایک بنیادی فرق ہے۔ ایلو پیتھی کا انحصار ازالہ تکلیف پر ہے اور طب یونانی کا انحصار ازالہ سبب پر۔ مثلاً ایک مریض آتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے سر میں درد ہے۔ اب ایلو پیتھی کا معالج اس کو ایسپرین کی گولی دیدے گا جس کے استعمال سے درد بظاہر دب جائے گا۔ مگر یہ دبنا وقتی ہوگا۔ اس کی گولیاں وقتی طور پر کچھ ازالہ تکلیف کر سکتی ہیں، مگر وہ درد کو مستقل طور پر ختم نہیں کرتیں۔ اس کے برعکس طب یونانی کے معالج کے سامنے یہی مریض آئے تو وہ درد سر کا سبب تلاش کرے گا۔ اگر وہ پائے گا کہ درد کا سبب پیٹ کی خرابی ہے تو وہ پیٹ کا علاج کرے گا نہ کہ براہ راست درد سر کا۔ مذکورہ حکیم صاحب نے ایلو پیتھی کے طریقہ پر سخت تنقید کی اور طب یونانی کے طریقہ کو صحیح اور فطری طریقہ قرار دیا۔ "کیوں کہ ازالہ تکلیف کا طریقہ صرف وقتی ریلیف دیتا ہے، وہ مستقل شفاء عطا نہیں کرتا"۔

اس کے بعد الرسالہ کا ذکر آیا تو حکیم صاحب نے اس کے "تعمیری پیغام" سے اتفاق نہیں کیا۔ انھوں نے کہا کہ مسلمان آج سنگین قسم کے مسائل میں مبتلا ہیں۔ وہ فوری توجہ کے مستحق ہیں۔ مگر آپ کے پاس مسلمانوں کے مسئلہ کا کوئی فوری حل نہیں۔ آپ صبر اور اعراض کی اور ایک طرفہ طور پر شکایات کو ختم کر لینے کی باتیں کرتے ہیں۔ موجودہ حالت میں تو یہ بات محض ایک فلسفہ ہے وہ مسئلہ کا حل نہیں ۔

میں نے حکیم صاحب سے کہا کہ آپ شخصی بیماری کے لیے ازالہ سبب کے طریقہ کو مفید بتاتے ہیں، اور اجتماعی بیماری کے لیے ازالہ تکلیف کے طریقہ کی وکالت کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس ہم شخصی اور اجتماعی دونوں قسم کے مسائل میں ازالہ سبب کے طریقہ کو نتیجہ خیز سمجھتے ہیں۔ بس اس کے سوا ہمارے اور آپ کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔ آپ دہرا انداز فکر کو ختم کر دیں اور پھر ہمارے اور آپ کے درمیان کوئی فرق نہ ہوگا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1987 All issues

Printed page