اعلیٰ کامیابی
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۹
تاہم اگر بالفرض ان میں کسی درجہ میں تعصب کا وجود فرض کیا جائے تب بھی ان کا تعصب اس معاملے میں فیصلہ کن نہیں بن سکتا۔
اس کی وجہ ان امتحانات کا نظام ہے۔ تحریری امتحانات پورے ۱۸۰۰ نمبر کے ہوتے ہیں۔ جب کہ انٹرویو میں صرف ۲۵۰ نمبر ہوتے ہیں۔ اب اگر بالفرض تعصب کی بنیاد پر انٹرویو میں کسی امیدوار کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے تو محض انٹرویو میں اچھا نمبر حاصل نہ کرنے کی وجہ سے اس کو نا اہل قرار نہیں دیا جا سکتا بشرطیکہ تحریری امتحان کے پرچوں میں اس نے اچھے نمبر حاصل کیے ہوں۔ کیوں کہ جب کامیاب امیدواروں کی آخری فہرست بنائی جاتی ہے تو تحریری امتحانات اور انٹرویو دونوں میں حاصل کردہ نمبروں کو یکجا کر کے شمار کیا جاتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ صرف انٹرویو میں حاصل کردہ نمبر کی بنیاد پر فیصلہ کر دیا جائے ۔
اس سلسلے میں ایک سبق آموز بات یہ ہے کہ عامر سبحانی صاحب نے تحریری امتحانات میں مجموعی طور پر ۴۶ فی صد نمبر حاصل کیے ہیں ، جب کہ انٹرویو میں ان کو ۵۴ ۷ فی صد نمبر ملے ہیں۔ یعنی انٹرویو میں ۱۰ فی صد زیادہ ۔
مسٹر سبحانی سے پوچھا گیا کہ انھوں نے سول سروس کے امتحان کے لیے کس طرح تیاری کی تھی ۔ اس کے بارے میں بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ چھ مہینہ تک وہ روزانہ ۱۲ سے ۱۴ گھنٹہ تک مطالعہ میں صرف کرتے تھے ۔ اس سے پہلے بھی انھیں آدھی رات تک پڑھنے کی عادت تھی ۔ وہ نصابی کتابوں کے علاوہ انڈین اینڈ فارن ریویو ، یوجنا اور انڈیا ٹوڈے کا برابر مطالعہ کرتے تھے ۔ ان کے علاوہ وہ دہلی سے نکلنے والے کئی انگریزی اخبارات کو روزانہ پوری طرح پڑھتے تھے ۔
حقیقت یہ ہے کہ مسٹر عامر سبحانی کی غیر معمولی کامیابی کا راز غیر معمولی محنت ہے۔ وہ اپنی محنت کی وجہ سے میٹرک سے لے کر ایم اے تک ہمیشہ امتیازی نمبروں سے کامیاب ہوتے رہے ۔ ان سے پوچھا گیا کہ وہ اپنے تجربہ کی روشنی میں آئی اے ایس کے امتحان میں شریک ہونے والے نوجوانوں کو کیا مشورہ دیتے ہیں۔ انھوں نے کہا: سخت محنت اور اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی پوری جدوجہد ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1987 All issues