Al-Risala · December 1987 · page 10

اعلیٰ کامیابی

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۱۰

(۱۹ جون ۱۹۸۷ کے انگریزی اخبارات ، نئی دنیا ۳۰ جون ۱۹۸۷، بلٹز ۱۵ اگست ۱۹۸۷) ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے عمل کے دو میدان ہیں ۔ ایک مطالبہ اور احتجاج کا میدان اور دوسرا محنت اور جدوجہد کا میدان ۔ ہمارے لیڈر پہلے میدان میں سرگرمی کی علامت ہیں ۔ اور عامر سبحانی جیسے افراد دوسرے میدان میں سرگرمی کی علامت ۔ ہمارے تمام لیڈر پچھلی نصف صدی سے ٹکراؤ کے راستے پر چل رہے ہیں۔ وہ فریق ثانی کو ذمہ دار ٹھہرا کر اس کے خلاف لامتناہی احتجاج کی مہم جاری کیے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف ہماری قوم میں عامر سبحانی جیسے افراد بھی ہیں جنہوں نے فریق ثانی کی طرف سے نظریں ہٹا کر اپنی محنت پر بھروسہ کیا، وہ اپنے ذاتی امکانات کو بروئے کار لانے میں منہمک ہو گئے ۔

اب عملی نتیجہ کے اعتبار سے دیکھیے تو لیڈر صاحبان کا طریقہ مسلم امت کے لیے سراسر بے نتیجہ ثابت ہورہا ہے۔ اس راستہ سے ملت کو ایک فی صد بھی کوئی مثبت فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ اس کے برعکس جو لوگ عامر سبحانی والے راستہ پر چلے وہ ہمیشہ کامیاب رہے ۔ ان کی کوششوں سے ہمیشہ مثبت نتیجہ برآمد ہوا۔

یہ دو قسم کی مثالیں واضح طور پر بتا رہی ہیں کہ مسلمانوں کو اس ملک میں کیا کرنا چاہیے۔ انھیں لیڈروں کے بتائے ہوئے طریقہ کو مکمل طور پر چھوڑ دینا چاہیے اور "عامر سبحانی" والے طریقہ کو مکمل طور پر اختیار کر لینا چاہیے ۔ یہی واحد راستہ ہے جس پر چل کر مسلمان کامیابی کی منزل تک پہنچ سکتے ہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1987 All issues

Printed page