فطرت کی پکار
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۱۴
فطرت کی پکار
ماسکو سے ایک انگریزی ماہنامہ نکلتا ہے، اس کا نام سپتنک (Sputnik) ہے ۔ اس کے شمارہ اگست ۱۹۸۷ میں ایک مضمون چھپا ہے جس کا عنوان ہے :
Truth, Progress and the Human Soul
اس کے مضمون نگار روس کے مشہور سائنس داں یا کوف زلڈووچ (Yakov Zeldovich) ہیں۔ وہ ۱۹۱۴ء میں پیدا ہوئے اور اب روس کی اکیڈمی آف سائنسز کے ممبر ہیں۔
مسٹر زلڈ ووچ نے اپنے بارے میں اقرار کیا ہے کہ وہ ایک ملحد ہیں۔ وہ خدا اور مذہب کو نہیں مانتے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ کہتے ہیں کہ انسانی معاشروں میں مذہب کی موجودگی ایک ثابت شدہ تاریخی حقیقت ہے۔ نیز یہ کہ روحانی تقاضے انسان کے شعور میں گہرائی کے ساتھ پیوست ہیں : Spiritual needs are deeply embedded in human consciousness. انسانی فطرت کی یہ نوعیت اتنی واضح اور اتنی قطعی ہے کہ تمام سنجیدہ لوگوں نے اس کا اقرار کیا ہے۔ قدیم ترین زمانہ سے لے کر آج تک تمام انسان اس احساس کو لے کر پیدا ہوتے رہے ہیں۔ ملحد معاشروں میں پیدا ہونے والے بچے بھی اپنے آپ کو اس احساس سے خالی نہ کرسکے۔ انسانی فطرت کا یہ تقاضا ایک ایسی مانی ہوئی حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس حقیقت کو مان لینے کے بعد صرف یہ سوال باقی رہتا ہے کہ اس تقاضے کا جواب کیا ہے ۔ مذکورہ سائنس داں کا کہنا ہے کہ اس کا جواب نیچرل سائنس ہے۔ مگر یہ جواب اپنی تردید آپ ہے۔ اس لیے کہ نیچرل سائنس ایک مادی چیز ہے اور انسانی فطرت کا تقاضا ایک روحانی چیز ۔ پھر ایک مادی چیز ایک روحانی سوال کا جواب کس طرح بن سکتی ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ اس سوال کا جواب صرف خداوند تعالیٰ ہے۔ مخلوق اپنے خالق کی تلاش میں ہے، اور خالق کو پانے کے بعد ہی مخلوق کو سکون حاصل ہو سکتا ہے ۔ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1987 All issues