ایک اور حملہ
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۱۳
ایک اور حملہ
1962 میں چین نے ہندوستان کی مشرقی سرحد پر حملہ کیا تو ہندوستانی فوج پہلے ہی مرحلہ میں شکست کھا گئی۔ 19 نومبر 1962 کو اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے پارلیمنٹ میں بیان دیا تو وہ لب و لہجہ کے اعتبار سے ایک مرثیہ سے کم نہ تھا۔ اگلی صبح کو لابی میں ایک پرانے کانگریسی لیڈر یہ کہتے ہوئے سنے گئے کہ " یہ بات کبھی میرے تصور میں نہیں آئی تھی کہ مہاتما گاندھی کے سیاسی وارث کے پاؤں مٹی کے ہوں گے "
19 نومبر کو جواہر لال نہرو کی ایک تقریر ریڈیو سے نشر کی گئی ۔ یہ تقریر یاس انگیز تھی، وہ حوصلہ بڑھانے والی نہ تھی۔ نہرو نے آسام والوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جو کچھ آپ کے دروازہ پر ہو رہا ہے .......... آسامیوں کے لیے یہ بات بڑی حیرت انگیز ثابت ہوئی۔ ان کا ریمارک یہ تھا کہ نہرو نے یہ کیوں کہا کہ " جو کچھ آپ کے دروازہ پر ہو رہا ہے " انھوں نے یہ کیوں نہیں کہا کہ " جو کچھ ہمارے دروازہ پر ہو رہا ہے "
شری ایچ وی کامتھ نے اس قسم کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے لکھا تھا :
" کوئی شخص یہ سوچ نہیں سکتا تھا کہ وہ آدمی جو عالم گیر شہرت کے آسمان پر اڑائیں لگاتا رہا ہے ، وہ جنگ کے زمانہ میں اتنی نیچی سطح پر آجائے گا۔ اور اس کی پالیسیوں کا ڈھانچہ اس طرح زمین بوس ہو جائے گا۔ جواہر لال نہرو نے بعد کو خود تسلیم کیا کہ میں سپنوں کی دنیا میں رہ رہا تھا اور حقائق سے بالکل بے نیاز ہو گیا تھا "
( الجمعية وئیکلی ۱۳ جولائی ۱۹۷۳ )
1962 کے چینی حملے سے زیادہ بڑا ایک حملہ ہے جس کا خطرہ ہر آدمی کو درپیش ہے۔ یہ موت کا حملہ ہے۔ موت انسان کے اوپر اسی قسم کا شدید تر حملہ ہے۔ انسان اپنی دنیاوی کامیابیوں میں کھو کر حقیقت سے بے نیاز ہو جاتا ہے ۔ مرنے کے بعد جب اچانک اس کو اصل حقیقت کا سامنا پیش آئے گا تو اس وقت اس کی بدحواسی کا کیا عالم ہوگا ۔ اس وقت وہ اپنے آپ کو کہاں چھپائے گا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1987 All issues