Al-Risala · December 1987 · page 16

ایک جائزہ

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۱۶

ایک جائزہ

لارڈ بنٹک (Lord Bentick) نے ١٨٢٩ء میں ستی (خودسوزی) کو خلاف قانون قرار دیا تھا ۔ مگر ہم ستمبر ، ۱۹۷۹ء کو دیورالا (سیکر ، راجستھان) میں ۸ سالہ بیوہ روپ کنور کی ستی نے بتایا کہ یہ رسم ابھی ہندوستان سے ختم نہیں ہوئی۔ اس واقعہ نے ملک کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ہے اور سنجیدہ لوگوں نے اس کی سخت مذمت کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس غیر انسانی رسم کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔

تاہم ایک بات بہت عجیب ہے۔ کچھ لوگوں نے ستی کی رسم کی مذمت کرتے ہوئے غیر ضروری طور پر اس کے ساتھ اسلام کو بھی بریکٹ کر دیا ہے۔ اس سلسلہ میں مسٹر آئی کے گجرال (سابق وزیر اطلاعات ونشریات) کا ایک آرٹیکل ہمارے پیش نظر ہے۔ یہ آرٹیکل اخبار ٹیلی گراف (۲۰ اکتوبر ، ۱۹۸۸) میں چھپا ہے اور اس کا عنوان یہ ہے :

Widow-burning a national disgrace

مسٹر گجرال نے ستی پر اظہار خیال کرتے ہوئے بجا طور پر لکھا ہے کہ بیوہ کو جلانے کا بے ہودہ عمل جس کو پر لطف طور پرستی کہا جاتا ہے ، راجستھان کے ایک دور دراز گاؤں میں پیش آیا ۔ اس واقعہ نے ظاہر کیا ہے کہ قرون وسطیٰ کی وحشیانہ رسم ہمارے ملک میں آج بھی زندہ ہے۔ مسٹر گجرال نے ستی کے احیار کی شدید مذمت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کو ہمیں جرأت مندانہ طور پر ختم کر دینا چاہیے ، قبل اس کے کہ فنڈمنٹلزم کوئی تشددانہ رخ اختیار کرلے۔ یہاں تک مسٹر گجرال بالکل صحیح راستہ پر نظر آتے ہیں۔ اس کے بعد ان کا قلم غلط پٹری پر چلا جاتا ہے جب کہ وہ غیر ضروری طور پر " ہندو فنڈمنٹلزم " کے ساتھ "مسلم فنڈمنٹلزم" کو بریکٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ذاتی طور پر مجھے فنڈمنٹلزم کی اصطلاح پسند نہیں میرے نزدیک یہ ایک متعصبانہ اصطلاح ہے نہ کہ حقیقۃً علمی اصطلاح۔ تاہم اس لفظی بحث کو نظر انداز کرتے ہوئے میں اصل مسئلہ کے بارے میں کچھ باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں ۔ مسٹر گجرال کے آرٹیکل کے جس پیراگراف پر اس وقت مجھے اظہار خیال کرنا ہے ، اس

‹ Previous page Next page › Contents of December 1987 All issues

Printed page