Al-Risala · December 1987 · page 14

Widow-burning a national disgrace

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۱۴

کے الفاظ یہ ہیں :

مسلم بنیاد پرست اس میں کامیاب ہو گئے کہ وہ ہمارے لیڈروں کو دھمکا کر ایک قانون بنوالیں جس کے تحت انھیں یہ روایتی حق مل جائے کہ وہ اپنے فرقہ کی مطلقہ عورتوں کے ساتھ بدسلوکی کرسکیں ۔

مسٹر گجرال نے یہاں یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ اسلام میں بھی ’’ سستی‘‘ جیسی غیر معقول تعلیمات موجود ہیں ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ خود انتہائی غیر معقول بات ہے کہ اسلام کے بارے میں اس قسم کا بے ثبوت ریمارک دیا جائے ۔

مسٹر گجرال نے جس قانون کا حوالہ دیا ہے ، اس سے ان کی مراد مطلقہ مسلم خواتین سے متعلق قانون The Muslim Women (Protection of Rights on Divorce) Bill 1986 ہے ۔ مگر اس قانون کی کسی بھی دفعہ میں وہ بات نہیں جس کو فاضل مضمون نگار نے واوین کے ساتھ درج کرنا پسند کیا ہے ۔ یعنی مسلم مطلقہ خواتین کے ساتھ بدسلوکی ۔ مذکورہ قانون کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر ایک مسلم عورت کو طلاق ہو جائے تو عدت گزارنے کے بعد سے دوسرا نکاح ہونے تک اس کے ماہانہ خرچ کی ذمہ داری ، عام حالات میں اس کے سابق شوہر پر نہ ہوگی ۔ بلکہ مطلقہ عورت کی وراثتی جائداد سے یا اس کے رشتہ داروں کے ذریعہ اس کے گزارہ کا انتظام کیا جائے گا ۔ اور اگر بالفرض کسی واقعہ میں ایسا انتظام نہ ہو سکے تو متعلقہ ریاست کا وقف بورڈ اس کو ادا کرنے کا ذمہ دار ہوگا ۔ اور مجسٹریٹ بذریعہ قانون اس کا نفاذ عمل میں لائے گا ۔

اس انتظام کو بدسلوکی (Maltreatment) کس طرح کہا جا سکتا ہے ۔ یہ تو ایک زیادہ بہتر اور زیادہ معقول بندوبست ہے ، نہ کہ کسی قسم کی بدسلوکی ۔ کیونکہ سابق شوہر بے روزگار یا کم آمدنی والا ہو سکتا ہے ، یا وہ طلاق کے بعد وفات پا سکتا ہے ۔ جب کہ دوسری صورت میں یہ ضمانت ہے کہ عورت کے اخراجات کی بقدر ضرورت فراہمی آخر مدت تک جاری رہے گی ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1987 All issues

Printed page