Widow-burning a national disgrace
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۲۰
دو طریقے
قرآن میں قیامت کے احوال کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے :
يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ جس دن ان کے چہرے آگ میں الٹے پلٹے جائیں يَالَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا ۔ وَقَالُوا گے۔ وہ کہیں گے ، اے کاش ہم نے اللہ کی اطاعت رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا کی ہوتی اور ہم نے رسول کی اطاعت کی ہوتی۔ اور السَّبِيلَا ۔ رَبَّنَا آتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب ، ہم نے اپنے سرداروں وَالْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِيرًا اور اپنے بڑوں کی بات مانی تو انھوں نے ہم کو ( الاحزاب - ٦٦-٦٨ ) راہ سے بھٹکا دیا ۔ اے ہمارے رب ، ان کو دگنا عذاب دے اور ان پر بھاری لعنت کر ۔
قرآن کی ان آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں انسانوں کی دو قسمیں ہیں۔ اور اسی کے مطابق آخرت کے انجام کے اعتبار سے ان کی دو قسمیں ہو جاتی ہیں ۔ ایک وہ گروہ جو خدا کی کتاب اور رسول کی سنت میں غور کرے اور اس میں جو رہنمائی ملے اس کو کسی تبدیلی کے بغیر اختیار کرلے۔ اس کے مقابلہ میں دوسرے لوگ وہ ہیں جن کے معاملات کا رخ ان کے دنیوی لیڈروں اور ان کے مذہبی پیشواؤں کی رایوں سے متعین ہوتا ہے ۔ اول الذکر لوگ ہی اللہ کی رحمت کے مستحق ہیں ۔ دوسرے لوگ بھٹکے ہوئے لوگ ہیں ۔ وہ خدا کی رحمت کے مستحق نہیں قرار پا سکتے۔ خواہ وہ اپنے بڑوں کی پیروی کو خود ساختہ طور پر قرآن وحدیث کے الفاظ میں کیوں نہ بیان کرتے ہوں ۔
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا کیس بد قسمتی سے دوسری نوعیت کے گروہ کا کیس ہے۔ آج مسلمانوں کی اکثریت جن راستوں کی طرف چلی جارہی ہے وہ خدا اور رسول کا راستہ نہیں بلکہ ان کے نعرہ باز لیڈروں کا راستہ ہے۔ آپ ان لوگوں کو قرآن کی آیتیں سنا کر بتائیے کہ تمہارا راستہ قرآن کا راستہ نہیں ۔ یہ خدا کے رسول کی سنت کے مطابق نہیں تو وہ ہرگز آپ کی باتوں پر دھیان نہیں دیں گے ۔ وہ کہیں گے کہ ہمیں تو وہی کرنا ہے جو ہمارے بڑوں نے ہم کو بتایا ہے ، ہم تمہاری دلیلوں سے اپنا راستہ بدلنے والے نہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1987 All issues