Al-Risala · December 1987 · page 19

Widow-burning a national disgrace

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۱۹

قانون وراثت کے تحت خاندان کی جائیداد میں حصہ دار ہے۔ وہ بیوہ یا طلاق کے بعد بھی پوری طرح با عزت زندگی گزار سکتی ہے۔ اسلامی اصول بیوہ اور غیر بیوہ یا مطلقہ اور غیر مطلقہ کے درمیان درجہ کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں کرتا۔

ایسی حالت میں مسلم مطلقہ کے لیے سابقہ شوہر سے گزارہ لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ گزارہ لینے کا جو مقصد ہے وہ سابقہ شوہر سے گزارہ لیے بغیر اسے پوری طرح حاصل ہے۔ شاہ بانو بیگم کے مشہور کیس (945 .A.I.R. 1985-S.C) میں یہ بات ثابت شدہ ہے کہ اس کے لیے گزارہ کا دعویٰ برائے ضرورت نہ تھا، بلکہ برائے انتقام تھا۔ ورنہ شاہ بانو کی ضرورت اس کے میکہ میں اس کے بغیر ہی بخوبی طور پر پوری ہو رہی تھی۔ (مسلم عورت کے بارے میں اسلام کے قانون کی تفصیل کے لیے دیکھیے : خاتون اسلام)

مسٹر گجرال نے اپنے مضمون میں نہایت نامناسب طور پر یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ اسلام میں بھی ستی “ جیسی ناشائستہ تعلیمات موجود ہیں۔ اس کا ثبوت ان کے نزدیک ”مسلم فنڈ منٹلمم “ کا یہ عمل ہے کہ اس نے مسلم مطلقہ عورت کو اس کے سابقہ شوہر سے گزارہ نہ دلانے کا قانون بنوایا۔ مگر ان کا یہ حوالہ ان کی سنجیدگی کو مشتبہ کرتا ہے۔ کیونکہ انھوں نے مذکورہ قانون کو اس کی اصل صورت میں بیان نہیں کیا۔ اور اس کی وجہ بظاہر یہی ہے کہ قانون کو اس کی اصل صورت میں بیان کرنا ان کے مفید مطلب نہیں تھا۔ وہ ہندو فنڈ منٹلزم اور مسلم فنڈ منٹلزم دونوں کو برابر کی چیز ثابت کرنا چاہتے تھے۔ مگر یہ واضح ہے کہ ” بیوہ کو آگ میں جلانا “ اور ” مطلقہ کو اس کے سابقہ شوہر سے گزارہ نہ دلانا “ دونوں برابر کے واقعات نہیں ہیں۔ اس لیے مضمون نگار کو گزارہ (Maintenance) کی جگہ بدسلوکی (Maltreatment) کا لفظ لکھنا پڑا ۔ تاکہ ہندو فنڈ منٹلزم اور مسلم فنڈ منٹلزم دونوں برابر کی چیز دکھائی دینے لگیں۔

اس طرح مضمون نگار نے خود ہی اسلام کی صداقت کا بالواسطہ اعتراف کر لیا۔ کسی نظریہ کی صداقت کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے کہ اس کو اس وقت تک نشانہ تنقید بنانا ممکن نہ ہو جب تک اس کو بگاڑ کر خود ساختہ شکل میں پیش نہ کیا جائے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1987 All issues

Printed page