قدیم مکہ اور جدید ہندوستان
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۲۴
یہ ایک بے حد اہم واقعہ ہے ۔ اس کی غیر معمولی اہمیت اس وقت سمجھ میں آتی ہے جب کہ جدید ہندوستان کے اس واقعہ کو قدیم عرب کے اسی قسم کے واقعہ سے ملا کر دیکھا جائے اور دونوں کا تقابلی مطالعہ کیا جائے ۔
قدیم مکہ اور جدید ہندوستان
آپ جانتے ہیں کہ قدیم مکہ میں مشرکین کا غلبہ ہوتا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کے سامنے قرآن پیش کیا تو وہ اس کے سخت مخالف ہو گئے ۔ انہوں نے چاہا کہ آپ قرآن کی تبلیغ چھوڑ دیں ۔ سیرت ابن ہشام میں اس زمانہ کا ایک واقعہ نقل کیا گیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے اسلام قبول کیا ۔ ان کو شوق ہوا کہ وہ قرآن کا پیغام لوگوں تک پہنچائیں ۔ وہ کعبہ گئے اور وہاں مقام ابراہیم پر کھڑے ہو کر سورہ رحمن بلند آواز سے پڑھنے لگے ۔ یہ سن کر مکہ کے مشرکین دوڑے ۔ جب ان کو معلوم ہوا کہ پڑھنے والا قرآن کی آیتیں پڑھ رہا ہے تو وہ سخت غصہ ہو گئے ۔ انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود کے چہرے پر مارنا شروع کر دیا (فجعلوا يضربون في وجهه' جزو اول صفحہ ۳۳۷) حضرت عبداللہ بن مسعود اس حال میں واپس ہوئے کہ ان کا چہرہ سوجا ہوا تھا اور اس پر مار کے نشانات دکھائی دے رہے تھے ۔
اس طرح کے واقعات قدیم مکہ میں روزانہ پیش آتے تھے ۔ قرآن کی تعلیمات ان کے مزاج کے سراسر خلاف تھیں ۔ اس لیے وہ اس کے سخت دشمن بن گئے ۔ یہاں تک کہ انہوں نے آپ کو مجبور کیا کہ آپ مکہ چھوڑ دیں اور مکہ سے باہر چلے جائیں ۔
قدیم مکہ میں پیغمبر اسلام کے ساتھ جو کچھ پیش آیا اس کو اگر آج کل کی زبان میں کہا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ " مکہ کے مشرک سرداروں نے قرآن کی اشاعت پر پابندی لگادی " قدیم مکہ میں اگر کوئی اخبار ہوتا تو وہ اس واقعہ کی سرخی انہیں الفاظ میں قائم کرتا ۔ پابندی لگانے کی یہ اسکیم پوری طرح عمل میں آئی ۔ وہ اس حد تک موثر ثابت ہوئی کہ پیغمبر اسلام کو قرآن سمیت مکہ چھوڑ دینا پڑا ۔ اس کے بعد آپ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مدینہ چلے گئے ۔ مکہ کو قرآن سے خالی کر دیا گیا۔ اب دوسری مثال لیجیے اس واقعہ کے چودہ سو سال بعد ۱۹۸۵ میں ہندوستان میں اسی نوعیت کا مگر اس سے بالکل مختلف واقعہ پیش آتا ہے ۔ حیدر آباد کے ایک شخص چاند مل جو پڑا
‹ Previous page Next page › Contents of December 1987 All issues