قدیم مکہ اور جدید ہندوستان
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۲۵
نے کلکتہ ہائی کورٹ میں قرآن کے خلاف ایک رٹ پٹیشن داخل کیا ۔ اس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ قرآن تشدد کی تعلیم دیتا ہے، اس لیے اس کی اشاعت اور تقسیم کو قانونی طور پر ممنوع قرار دے دیا جائے ۔
کلکتہ ہائی کورٹ کی خاتون جج پدما خستگیر نے ۱۸ اپریل ۱۹۸۵ کو یہ پٹیشن سماعت کے لیے منظور کرلیا۔ مگر اس کے فوراً بعد اس کے خلاف آوازیں بلند ہونے لگیں ۔ حتیٰ کہ مغربی بنگال کی ریاستی حکومت اور ملک کی مرکزی حکومت ، دونوں نے قرآن پر پابندی لگانے کی کوشش کے خلاف سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ مرکزی وزیر قانون مسٹر اشوک سین فوراً سفر کر کے دہلی سے کلکتہ پہنچے ۔ اٹارنی جنرل مسٹر پارس رام اور مغربی بنگال کے ایڈوکیٹ جنرل مسٹر ایس کے اپاریہ نے اس کے خلاف عدالت میں زبردست وکالت کی۔
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جسٹس پدما خستگیر نے خاموشی سے اس کیس کو اپنے زیر سماعت مقدمات کی فہرست سے خارج کر دیا ۔ اس کے بعد کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی ہدایت کے تحت مسٹر جسٹس بی سی باسک (B.C. Basak) نے اس مقدمہ کی سماعت کی۔ انہوں نے ۱۳ مئی کو پہلی ہی پیشی میں اپنا ابتدائی فیصلہ دے دیا۔ اس کے بعد ۱۷ مئی کو آخری فیصلہ دیتے ہوئے پٹیشن کو قطعی خارج کر دیا۔ فاضل جج نے اپنے فیصلے میں لکھا: Courts cannot sit in judgment on holy books like the Koran عدالتوں کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ قرآن جیسی مقدس کتابوں کے بارے میں فیصلہ کرنے بیٹھیں ۔ (ٹائمس آف انڈیا، نئی دہلی ، ۱۸ مئی ۱۹۸۵)
فاضل جج نے اپنے ۸ صفحات کے فیصلے میں مزید لکھا :
Banning of the Koran would amount to abolition of the Muslim religion itself, as it could not exist without the Koran. Such action is unthinkable. Further, it would take away the seculararity of India and violate Article 25 of the constitution which guarantees all people freedom of conscience and right to profess, practise and to propagate religion. The Times of India (New Delhi) May 18, 1985 قرآن پر پابندی لگانا خود مسلمانوں کے مذہب کو ختم کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ کیوں کہ قرآن کے بغیر
‹ Previous page Next page › Contents of December 1987 All issues