Al-Risala · February 1987 · page 5

چوٹی کے لوگ

الرسالہ، فروری ۱۹۸۷، صفحہ ۵

چوٹی کے لوگ

امریکہ سے ۱۹۸۶ میں ایک کتاب چھپی ہے۔ اس کتاب کا نام چوٹی کے عمل کرنے والے (Peak Performers) ہے۔ اس کتاب میں جدید امریکہ کے ان لوگوں کا مطالعہ کیا گیا ہے جنھوں نے زندگی کے میدان میںہیرووانہ کر دار ادا کیا۔ اس سلسلہ میں مصنف نے جو باتیں لکھی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ طاقتور مشن (Powerful mission) وہ چیز ہے جو آدمی کے اندر کوشش (Superior effort) کا جذبہ ابھارتا ہے اور اس کو خصوصی کامیابی کے درجہ تک پہنچا تا ہے۔ (Exceptional achievement)

۱۹۶۹ میں امریکہ نے پہلا انسان بردار راکٹ چاند پر بھیجا تھا۔ راکٹ کی روانگی سے پہلے جو ماہرین اس منصوبہ کی تکمیل میں مشغول تھے، ان میں سے ایک شخص کا بیان ہے جو اس ٹیم میں کمپیوٹر پروگرامر کے طور پر شامل تھا۔ اس نے دیکھا کہ عمل کے دوران کچھ غیر معمولی بات پیدا ہو گئی۔ ہزاروں عورتیں اور مرد جو اس منصوبہ میں کام کر رہے تھے، وہ سب کے سب اچانک اعلیٰ انجام دینے والے (Super-achievers) بن گئے۔ وہ اتنا عمدہ کام کرنے لگے جو اس سے پہلے انھوں نے ساری عمر میں نہیں کیا تھا۔

۱۸ مہینے میں حیرت انگیز تیزی کے ساتھ یہ کام مکمل ہو گیا۔ میں نے جاننا چاہا کہ ہم سب لوگ اتنا عمدہ کام کیوں کر رہے ہیں۔ میں نے منیجر کے سامنے یہ سوال رکھا تو اس نے مشرقی جانب چاند کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ لوگ ہزاروں سال سے وہاں جانے کا خواب دیکھتے رہے ہیں۔ اور اب ہم اس کو واقعہ بنانے جارہے ہیں :

People have been dreaming about going there

for thousands of years. And we're going to do it. یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کو سب سے زیادہ جو چیز متحرک کرتی ہے وہ یہ کہ اس کے سامنے کوئی بڑا مقصد آجائے۔ بڑا مقصد آدمی کی اندرونی صلاحیتوں کو جگاتا ہے۔ وہ آدمی کو ہر قسم کی قربانیوں پر آمادہ کرتا ہے۔ وہ ایک عام آدمی کو چوٹی کا آدمی بنا دیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1987 All issues

Printed page